ترک عدالت نے 2شامی اسمگلروں کو جیل بھیج دیا

arrested

استنبول:ترک عدالت نے دو شامی اسمگلروں کو ایلان کردی کی موت کا ذمے دار قرار دے کر جیل بھیج دیا۔شام میں برسوں سے جاری لڑائی کے باعث اکثر لوگ جان جوکھم میں ڈال کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، ایلان کا والد بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا جو یونان کے راستے کینیڈا جانا چاہتا تھا۔

ایلان کا والد اپنے اہل خانہ کے ساتھ ستمبر سن دو ہزار پندرہ میں روانہ ہوا، ان کی کشتی کو ساحل نہ ملا اور ڈوب گئی البتہ ایلان کی لاش لہروں پر سفر کرتے ہوئے ساحل تک پہنچ گئی۔یونان کے ساحل پر پڑی تین سالہ ایلان کردی کی لاش نے دنیا بھر میں پتھر دل انسانوں کو بھی رْلا دیا۔ سانحے میں ایلان، اس کے بھائی اور والدہ سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

ایلان کی ہلاکت نے شام اور مائیگرنٹس کی صورتحال پر دنیا کی توجہ مرکوز کردی تاہم اس کے باوجود کشتیاں ڈوبنے کے کئی واقعات ہوئے جن میں بہت سے افراد لقمہی اجل بن چکے ہیں۔ترکی کی عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد دو انسانی اسمگلروں کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا اور انہیں چار سال دو ماہ کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے دونوں مجرموں پر جان بوجھ کر ہلاک کرنے کا الزام عائد نہیں کیا۔

loading...
loading...