بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں سب سے بڑی غلطی

ghalti

بھارت کی جانب سے رواں ہفتے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متعلق کیے جانے والے حیران کن فیصلے نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔

کشمیر 1947 کی تقسیم کے بعد سے برِ صغیر کا سب سے بڑا رہا ہے۔ برِ صغیر کی 500شاہی ریاستوں میں سے ایک جس ہندو حکمراں نے ان کو نکالنے کی قبائلیوں کی کوشش کے بعد بھارت کے ساتھ جانے کو ترجیح دی تھی۔ تب سے اب تک دونوں ممالک  اس مسلم اکثریتی خطے  کے لئے تین جنگیں لڑچکے ہیں۔ اس خطے کا بڑا حصہ بھارت کے قبضے میں  ہے، ایک تہائی حصہ آزاد کشمیر ہے اور ہمالیہ کا سطح مرتفع کا حصہ چین کے پاس ہے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر کے ساتھ جو رویہ روا رکھتا ہے دو وجوہات کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔ پہلی وجہ  وہاں پرپیش ہونے والے واقعات ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو تلخ کردیتے ہیں۔اور یہ ہندو اکثریتی بھارت میں واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔

ان تمام تر معاملات کے باوجود مودی حکومت نے بغیر کسی وارننگ کے آئین سے آرٹیکل 370 جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے، منسوخ کردیا جس کے بعد اب انہیں ملحقہ علاقے قراردیاگیا جن کا انتظام  نئی دہلی سے چلایا جائے گا۔

بھارتی حکام نےسیکڑوں مقامی رہنماؤں کو نظربند کردیا، پہلے سے فوجی چھاؤنی بنی مقبوضہ وادی  میں بڑی تعداد  میں اور فوج اتار دی، سیاحوں کو باہر نکال دیا، کرفیو نافذ کردیاگیا اور بیرونی دنیا رابطہ منقطع کردیا۔

مقبوضہ ریاست کو آئین میں حاصل بہت سے خصوصی اختیارات پر عمل کافی عرصے سے انتہائی محدود ہے۔  نہ ہی بھارت میں دیگر ریاستوں کو حاصل یہ خصوصی اختیارات کے عمل  کو چیلنج کررہا ہے۔  اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ مودی کی ہندو انتہاء پسند جماعت  کا مقصد مسلم اکثریتی ریاست کو مٹانا تھا۔

بھارت، پاکستان سے معاشی و سفارتی سطح پر بھڑنے کےلئے اتاولا ہورہا ہے۔ مودی حکومت کا یہ خیال ہے کہ وہ پاکستان کو نظرانداز یا تنہا کرسکتا ہے۔

ان سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ مودی نے اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہونے والے یعنی کشمیریوں کو یکسر نظرانداز کیا۔ بی جے پی حکام کہتے ہیں اس الحاق سے وہاں نوکریوں اور سرمایہ کاری خوب بڑھے گی جس سےکشمیریوں کی زندگی بہتر ہوگی۔ لیکن یہ خیال شدید قابِل اعتراض ہے۔ اس سال بھارت میں نجی سرمایہ کاری  14 برس کی کم ترین سطح پر ہے جبکہ بے روزگاری گزشتہ 45سالوں کے مقابلے میں عروج پر ہے۔

بھارت کو جن معاملات کودیکھنے کی ضرورت ہے وہ نوکری کی کمی وغیرہ نہیں بلکہ اس کی قابض فوج کے سبب ہونے والی کشمیریوں کی گھٹن ہے۔  مرکزی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی پر اپنی مرضی صادر کرنے سے صرف غم و غصہ شدت اختیار کرےگا۔

بھارت اس معاملے میں اندرونی خلفشار سے فرار اختیار نہیں کرسکتا لیکن اس دباؤ سے بچنے کا ایک طریقہ اختیارات کو مرکز سے منتقل کرنا اور شہریوں  کو گورننس میں زیادہ حصہ دینے کے ساتھ مقامی وسائل  پر اختیار دینا ہے۔ لیکن مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ان سب چیزوں کی مخالف سمت میں جارہی ہے۔

بلومبرگ ایڈیٹوریل بورڈ

loading...
loading...