ملکہ برطانیہ کا نبی کریم ﷺ سے کیا تعلق ہے؟ خفیہ شجرہ نصب منظر عام پر

o-QUEEN-ELIZABETH-II-facebook

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے سلسلہ نسب کے حوالے سے مؤرخین نے عجیب و غریب دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق ملکہ کا تعلق قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے ان مسلم حکمرانوں کی نسل سے ہیں جن کا شجرہ نسب حضوراکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے۔

برطانوی جریدے ڈیلی میل کے مطابق مغربی مؤرخین نے دعوٰی کیا ہے قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے یہ حکمران امام حسنؓ کی نسل سے تھے جو حجاز مقدس سے اسپین منتقل ہوئے اور وہاں حکومت کی۔

ان میں ایک بادشاہ کا نام المعتمد ابن عباد بتایا جاتا ہے۔ جس کی ایک بیٹی شہزادی زیدا تھی جو والدین کے ساتھ اسپین کے شہر سیوائیل  (Seville) میں رہتی تھی۔

یہ 11ویں صدی عیسوی کا واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ شہزادی سیوائیل سے چلی گئی، بعد ازاں اس نے عیسائیت قبول کرلی۔

مورخین کا دعوٰی ہے کہ ملکہ برطانیہ اسی شہزادی کی نسل سے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسپین کے قدیم ریکارڈ سے بھی مؤرخین کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے اور مصر کے سابق مفتی اعظم علی گوماء بھی اس کی تصدیق کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ دعوٰی 1986ء میں برطانوی ادارے برکز پیریج  (Burke’s Peerage) نے کیا تھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو برطانوی شاہی خاندان کے شجرہ نسب کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ہے۔

1986ء میں اس انکشاف کے بعد ادارے نے اس وقت کی برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچرکو لکھا تھا کہ وہ شاہی خاندان، بالخصوص ملکہ کی سکیورٹی بڑھا دیں۔

برکز پیریج کے سربراہ نے وزیراعظم کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا تھا کہ برطانوی لوگ بہت کم جانتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کی رگوں میں مسلم خون دوڑ رہا ہے لیکن مذہبی رہنماء اس سے آگاہ ہیں۔ انتہاء پسندوں سے ملکہ کو خطرہ ہو سکتا ہے جس کیلئے ان کی سکیورٹی میں اضافہ کرنا لازمی ہے۔

loading...
loading...