چار ماہ کے بچے کی 28 ہڈیاں توڑنے والا حیوان جوڑا

essex

انگلینڈ میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بارے میں سن کر آپ کی روح کانپ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک حیوان صفت انسانی جوڑے کو اپنے چار ماہ کے بچے کی 28 ہڈیاں توڑنے پر 8 سال کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔

The severity of the injuries to the baby boy were shown in x-rays presented to the court

اسیکس شہر میں ایک وحشی جوڑے نے اپنے ہی بچے کی 28 ہڈیاں توڑیں جس کا انہیں قصوروار پایا گیا جس کے بعد ہوو کراون کورٹ نے 22 سال کی الیکزینڈر کوپنسکا اور 32 سال کے ایڈم جینڈر جیک کو 8 سال کی سزا سنائی ہے۔

Doctors found 20 fractures to the baby's ribs, including these itemised on a court x-ray

بچے کے ساتھ حیوانیت کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کو برائٹن کے رائل الیکزینڈرا چلڈرین اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ اس بچے کے بائیں ہاتھ میں فریکچر ہے مگر جب اسٹاف نے ٹھیک سے معائنہ کیا تو واضح ہوا کہ بچے کا صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ پورا جسم ہی فریکچر ہوچکا ہے۔

Bone fractures were also found on the four-month-old child's knees

جب بچے کے پورے جسم کا ایکسرا کیا گیا تو رپورٹ دیکھ کر اسپتال اسٹاف کے ہوش اڑ گئے۔ ڈاکٹروں نے بچے کے جسم پر کل 28 فریکچر دیکھے۔

Doctors found bone fractures on the ribs all around the little boy's ribcage. Today his abusers each received an eight-year sentence

بچے کی پسلیاں، گھٹنے اور ٹخنے میں فریکچر تھا۔ ماں باپ سے فریکچر کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔

غیرملکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچے کے رونے کی آواز سن کر باپ کو سکون ملتا تھا اس وجہ سے اس معصوم کی ہڈیاں توڑیں۔

بعد ازاں معاملے کی تحقیقات کیلئے پولیس نے پوچھ تاچھ کی تو انکشاف ہوا کہ بچہ کے ساتھ چار سے چھ ہفتہ پہلے مار پیٹ کی گئی تھی، جس میں اس کے جسم کی کل 28 ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔

A body map shown to the court itemised the horrifying number of injuries to the tiny child

الیکزینڈر کوپنسکا اور ایڈم جینڈرجیک دونوں بے روزگار تھے تاہم انہوں نے ایسی وحشیانہ حرکت کیوں کی، اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

عدالت میں جب یہ معاملہ پہنچا تو جج بھی لرز اٹھے۔ انہوں نے اس کیس کو اپنے کیریئر کا سب سے بھیانک کیس قرار دیا۔

واضح رہے اس وقت بچہ اسپتال میں داخل ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔

loading...
loading...