بریتھلائزر کو دھوکہ دینے کیلئے شرابیوں کی دلچسپ لیکن ناکام ترکیبیں

Untitled-2

دنیا کے تمام ممالک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا قانوناً جرم ہے۔ شراب کے نشے میں  ڈرائیونگ کرنے والے مشتبہ لوگوں کے شرابی ہونے یا نہ ہونے کا فوری فیصلہ کرنے کیلئے پولیس کے ایک آلہ استعمال کرتی ہے جسے ‘بریتھلائزر’ کہا جاتا ہے۔ اس آلے سے سانس کے ذریعے سانس میں  الکوحل کی مقدار کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

بریتھلائزر کو دھوکا دینے کیلئے شرابی عرصے سے مختلف ترکیبیں آزما رہے ہیں۔ اس کیلئے شرابی چیونگم چبانے سے لے کر فضلہ تک کھا چکے ہیں، جبکہ یہ تمام ترکیبیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک اور ترکیب وائرل ہو رہی ہے کہ تانبے کے ایک یا دو پنس کے سکے چوسنے سے منہ میں ایسا کیمیائی تعامل ہوتا جو بریتھلائزر کو آرام سے دھوکا دے سکتا ہے۔

تاہم جتنے لوگوں نے اس ترکیب کو آزمایا وہ اس میں ناکام رہے۔ اصل میں جدید بریتھلائزر کو  دھوکا دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ بریتھلائزر سے شرابی کی سانس نمونہ لے کر اس میں سے روشنی گزاری جاتی ہے۔ جسم میں الکوحل ہونے کی صورت میں بریتھلائزر کی روشنی تبدیل ہوتی ہے۔ اس تبدیلی سے ہی جسم میں الکوحل کی مقدار کا پتا چلتا ہے۔

985 میں کینیڈا کے ایک ڈرائیور کو روکا گیا تو وہ اپنا باکسر شارٹس پھاڑ کر کھانے لگا۔ اسے امید تھی کہ شارٹس کا کپڑا اضافی الکوحل کو جذب کرلے گا۔

اسی طرح کینیڈا میں ہی ایک ڈرائیور کو روکا گیا تو پتا چلا کہ اس نے بریتھلائزر کو دھوکا دینے کیلئے اپنا فضلہ کھایا ہے۔

90کی دہائی کے شروع میں شرابیوں کا خیال تھا کہ زیادہ ڈکاریں لینے سے جسم میں الکوحل کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے بریتھلائزر کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ اس سے بھی شرابیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بریتھلائزر کو شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ شراب نوشی ترک کر کے ڈرائیونگ کی جائے۔

loading...
loading...