بھارت میں ایک بار پھر مسلم کش فسادات کا خطرہ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارتی الیکشن قریب آتے ہی ایک بار پھر ہندو انتہاپسندوں نے مذہب کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا ایجنڈا لیے شیوسینا اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کے سیکڑوں حواری ایودھیا پہنچ گئے ہیں۔ایک بار پھر مسلم کش فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

چھ سمبر1992کا سیاہ دن جب ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو ہندو انتہاپسندوں نے شہید کردیا۔

پھر مسلم کش کارروائیاں کی گئیں اور ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں دو ہزار سے زائد مسلمانوں نے شہادت پائی۔

بھارت میں 2019میں الیکشن ہونے والے ہیں انتہاپسندوں نے پھر رام مندر کی تعمیر کا شوشا چھوڑ دیا۔

ہندو انتہا پسند تنظیموں شیو سینا اور وشوا ہندو پریشد اپنے بلوائیوں کو بلالیا۔

ایودھیا کی متنازع زمین پر “دھرما سبھا” کی بیٹھک لگالی۔

ایودھیا سمیت بھارت بھر میں مسلم کش فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

صوبائی حکومت نے ایودھیا میں سیکیورٹی بڑھانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایسے ہی دعوے 1992میں بھی کیے گئے لیکن انتہاپسندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔

ادھر بھارت کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اگلے الیکشن کیلئے دوبارہ مذہب کارڈ استعمال کرنا چاہتی ہے۔

loading...
loading...