امریکی وسط مدتی انتخابات: نتائج آنا شروع

Untitled-1

واشنگٹن: امریکا کی 50 ریاستوں میں وسط مدتی انتخابات کے لیے کئی ریاستوں میں ووٹنگ مکمل ہوگئی ہے، ایوان نمائندگان کی 435 اور سینیٹ کی 35 نشتسوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

پولنگ اسٹیشنز پر عوام کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ جبکہ انتخابات میں 60 سے زائد مسلمان امیدوار بھی میدان میں تھے۔ امریکا کی 36 ریاستوں کے گورنر کیلئے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ انڈیانا پولس میں گزشتہ روز اَرلی ووٹنگ ہوئی۔ جبکہ شکاگو میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ سطح پر دیکھا گیا۔

امریکی کانگریس کے الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلیکن کو پینتالیس اور ڈیمو کریٹک کو اڑتیس سیٹیں حاصل ہوگئی ہیں۔

جب کہ امریکی ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے 110 پر ڈیمو کریٹک اور 104 نشستوں پر ری پبلیکن کو برتری حاصل ہے، آدھی سے زیادہ ریاستوں میں پولنگ ختم ہو چکی ہے۔

الیکشن کے نتائج سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا کہ انھیں قانون سازی کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں یا نہیں، یہ تو واضح ہے کہ انھیں سینیٹ میں اکثریت ملنے کا قوی امکان ہے، جب کہ دوسری طرف ایوان نمائندگان میں بھی دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔

ورجینیا کو ری پبلیکن کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، اور وہاں سے ڈیمو کریٹک امیدوار جینیفر وکسٹن نے ری پبلیکن امیدوار باربرا کامسٹاک کو بھاری مارجن سے شکست دے دی ہے۔

ری پبلیکن کے چودہ اور ڈیمو کریٹ کے گیارہ گورنرز کو بھی کامیابی ملی ہے۔



loading...
loading...