مریخ پر جانا حلال ہے یا حرام؟ اماراتی علماء کا فتویٰ

Untitled-1

متحدہ عرب امارات کی اسلامی امور اور وقف کی جنرل اتھارٹی نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ سرخ سیارے مریخ پر جانا اسلام کی روح سے حرام ہے۔

یواے ای کے اخبار خلیج ٹائمز میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اس فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے یک طرفہ سفر سے انسانی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس کا اسلام میں کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکے گا۔نیز یہ ممکن ہے کہ جو شخص مریخ سیارے پر جاتا ہے،وہ زندہ نہ رہ سکے اور اس کے موت کے منہ میں جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔

اس اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ مریخ پر جانے کے خطرناک سفر میں حصہ لیں گے،وہ کسی جائز جواز کے بغیر اپنی جانیں گنوا بیٹھیں گے اور انھیں خودکشی کی حرام موت مرنے والوں کی طرح سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ فتویٰ نیدر لینڈز کی’مارس ون کمپنی’ کی جانب سے اپریل 2013ء میں رضاکاروں سے مریخ پر جانے اور وہاں رہنے کے لیے طلب کردہ درخواستوں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔اس تمام مہم کے لیے کمپنی نے صرف اڑتیس ڈالرز فیس طلب کی تھی اور اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا کوئی واپسی ٹکٹ نہیں ہوگا۔

اس مہم کا مقصد مریخ پر انسانوں کو مستقل طور پر بسانا ہے۔اس مہم پر روانہ ہونے کے لیے دنیا بھر کے ایک سوچالیس ممالک سے تعلق رکھنے والے دولاکھ سےزیادہ رضاکاروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ان میں سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے پانچ سو افراد بھی شامل ہیں۔

اس مہم پر بھیجے جانے والے افراد کے انتخاب کا دوسرا مرحلہ اس سال شروع ہوگا اور مریخ اول کی سلیکشن کمیٹی امیدواروں کے ذاتی انٹرویوز کرے گی۔یواے ای کی اسلامی اتھارٹی نے اپنے فتوے میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ بعض رضاکار محض اس لیے مریخ پر جانا چاہتے ہیں تا کہ وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔

مریخ کا یک طرفہ سفر آٹھ سال بعد 2022ء میں شروع ہوگا اور ڈچ کمپنی کو اس کی قریباً چھے ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔اس سفر پر جانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمریں اٹھارہ سے چالیس سال کے درمیان ہوں اور ان کی جسمانی صحت اچھی ہو لیکن اس کمپنی کی جانب سے یہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے کہ اگر اس کی مہم روانہ ہی نہ ہوسکی توپھر لوگوں سے وصول کردہ رقم کیسے لوٹائی جائے گی۔

loading...
loading...