پندرہ دن کی بچی کو چوہوں نے کاٹ کھایا

3

18 سالہ چارلس ایلیئٹ اور اس کی 19 سالہ بیوی ایریکا شرائیوک کو پولیس نے حراست میں لے لیا، کیونکہ ان کی نو مولود بچی کو چوہوں نے اپنی غذا بنانے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق بچی کے والدین جانتے تھے کہ ان کے گھر میں چوہے موجود ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنی بچی کا خیال نہیں رکھا اور نہ گھر سے چوہے ختم کرنے کی کوشش کی۔

بچی صرف پانچ پونڈ کی تھی۔ اس کے چہرے، ہاتھوں اور انگلیوں پر کاٹنے کے نشانات تھے۔ ماتھے پر موجود ایک انچ کا زخم سب سے گہرا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچی جسم پر 100 سے ذیادہ زخم برداشت کرنے کے باوجود زندہ بچ گئی ہے۔ لیکن اسے چہرے کو ری کنسٹرکشن سرجری کی ضرورت ہے۔

بچی کے والدین کو بے انتہا لاپرواہی اور بچی کی جان خطرے میں ڈالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایریکا نے پولیس کو بتایا کہ اس کی آنکھ بچی کے رونے کی آواز سے کھلی۔

جب دیکھنے گئی تو اس نے ہر جگہ خون کے دھبے دیکھے، جبکہ محلے داروں کے مطابق انہوں نے بچی کی ملکیت کھو جانے کے ڈر سے اسے فوری طور پر ہسپتال نہیں پہنچایا۔

پولیس نے جب گھر کی تلاشی لی تو انہوں نےخون میں لت پت بچی کے کپڑے اور چوہوں کے پیروں کے نشان دیکھے۔ ڈاکٹرز کے مطابق چوہے کئی گھنٹوں تک بچی کو کاٹتے رہے۔ اس دوران بچی تکلیف میں پڑی رہی۔ والدین یا تو گھر پر غیر موجود تھے یا اتنے نا اہل ہیں کہ بچی نہیں سنبھال سکتے۔

بشکریہ : radaronline

loading...
loading...