دو بار مرنے والے ڈاکٹر کی عجیب داستان

13

شمالی ویلز کے 63 سالہ ڈاکٹر کا دعویٰ ہے کہ وہ دو مرتبہ موت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔ پہلی بار فلو میں مبتلا ہونے پر اور دوسری مرتبہ سرسام (meningitis)  سے شدید متاثر ہونے کی وجہ سے۔ دونوں مرتبہ یہ بالکل مر جانے والا تجربہ ثابت ہوا۔

غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق پریسٹاٹین (شمالی ویلز) کے 63 سالہ ڈاکٹر نے ایک اخبار میں کچھ لوگوں کے مر کر واپس آنے کے بارے میں مضمون پڑھا تو انہوں نے اپنے تجربات بھی شیئر کر دئیے۔

انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دونوں مواقع پر ان کا تجربہ بہت مختلف رہا لیکن دونوں مرتبہ ان میں ایک فلسفیانہ تبدیلی در آئی۔

اپنے پہلے تجربے کی ‘خوفناکی’ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ا س دوران ان کا جسم ان کے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہا تھا۔

لیکن 20 سال بعد جب انہیں موت کے احساسات سے دوبارہ واسطہ پڑا تو اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی ‘شاندار’ تجربہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 1974 میں جب میں تقریباً 19 سال کا تھا تو میں لندن میں تعلیم کے حصول کے دوران ٹرائی فین کے قریب رہتا تھا۔ مجھے زکام ہوا تھا اور مجھے میں آرام کرنا چاہیے تھا لیکن میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر چڑھائی پر چلا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مجھے عجیب محسوس ہوا لیکن میں آگے بڑھتے رہنے پر مجبور تھا۔ جب میں واپس اپنی رہائش گاہ پر آیا تو گر پڑا اور اس لمحے مجھے بہت ہی عجیب تجربہ ہوا۔

چند لمحوں بعد مجھے انتہائی خوفناک احساس ہوا وہ یہ کہ میں اپنے جسم سے باہر نکل رہا تھا۔ جب آپ سونے جاتے ہیں تو آپ بہت پرسکون محسوس کرتے ہیں لیکن اس تجربے کے دوران میں بہت ہوشیار تھا۔ یہ میرے تصور سے بھی زیادہ ہولناک تھا کہ یہ سب میرے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ ایسا تھا کہ میرے جسم کے اعضاء میرے قابو میں نہیں تھے۔

جب میں نے خود کو واپس اپنے جسم میں محسوس کیا تو نہایت ہی ناقابل بیان سکون میسر آیا۔ میں بس جاگ جانا چاہتا تھا۔

انہوں نے اس حالت کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے ‘لامحدود تاریکی’ کا لفظ استعمال کیا۔ اور کہا کہ انہیں ایسے لگا جیسے دو بڑے سے جبڑے ان کے گرد گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ میں ان چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیوں نہیں تھا، بہرحال یہ بہت ناخوشگوار تجربہ تھا۔ انہوں نے اضافہ کیا کہ انسانی دماغ بہت محدود ہے۔ یہ ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتا جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ سوچ سکتا ہے۔

20 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد 1996 میں ڈاکٹر کو 41 سال کی عمر میں گلان کلیڈ ہاسپٹل میں موت کا دوسرا تجربہ ہوا جس میں سرسام سے ان کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔میں روشنی میں تھا۔یہ خوبصورت منظر تھا تبھی اچانک ایک آواز نے مجھے اچانک میرے جسم میں واپس لا ڈالا۔

بیماری اتنی اچانک سے آئی تھی کہ مجھے اپنے سابقہ تجربے کو ذہن میں رکھتے ہوئے موت سے خوفزدہ ہونے کا خیال بھی نہ آیا۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ میری عمر اب 63 سال ہے اور مجھے موت کا ذرا سا بھی خوف نہیں ہے۔درحقیقت اب میں اپنے اصل گھر جانے کے لیے بے چین ہوں تاکہ اپنے خالق سے مل سکوں جو مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق اپنی موت سے متعلق تجربات حاصل کرنے سے پہلے وہ ایک ملحد یا منکر خدا تھا اور خود غرضی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ لیکن درج بالا تجربات کے بعد وہ عیسائیت کی طرف متوجہ ہوگیا۔

loading...
loading...