آسٹریلیا: زنانہ ٹریفک سگنلز کی رونمائی

BBC Urduبشکریہ

BBC Urduبشکریہ

آسٹریلیا میں خواتین کی ہیئت والے ٹریفک سگنلز کی رونمائی کے بعد سے صنفی برابری کی مہم شروع ہو گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق میلبرن میں تجرباتی بنیادوں پر شروع کیے جانے والے اس پروگرام کے پیچھے کام کرنے والے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ‘غیر ارادی تعصب میں کمی’ لانا ہے۔

لیکن مرکزی شہر میں ان دس سگنلز پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آرہا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر ضروری ہیں۔

منتظمین کو امید ہے کہ شہر میں پیدل سڑک کراس کرنے والوں کیلئے مختص راستوں پر خواتین اور مردوں کی برابر تصاویر دکھائی جائیں گی۔

ان سگنلز پر کام کرنے والے گروپ کمیٹی فار میلبرن کی چیف ایگزیکٹیو مارٹین لیٹز کا کہنا ہے کہ ‘غیر ارادی تعصب سوچ کو مضبوط کرتا ہے اور روز مرہ کے فیصلوں اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ سگنلز ان مسائل کی جانب مثبت اور عملی انداز میں ہماری توجہ دلائیں گے۔’

مقامی حکام کی جانب سے حمایت حاصل کرنے والے اس پروگرام کو 12 مہینوں کیلئے تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے لیکن تمام لوگ اس تبدیلی کا خیر مقدم نہیں کر رہے ہیں۔

میلبرن کے لارڈ میئر رابرٹ ڈوئل نے ہیرلڈ سن کو بتایا کہ ‘میں صنفی برابری کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں، لیکن کیا واقعی؟’

‘بدقسمتی سے، میرے خیال میں اس قسم کے اقدامات صرف مذاق کی وجہ بنتے ہیں۔’

دوسری جانب اس تجرباتی پروگرام پر سوشل میڈیا پر بھی لوگ تنقید کر رہے ہیں۔

وکٹوریا میں خواتین کیلئے کام کرنے والی وزیر فیونا رچرڈسن نے کہا ہے کہ ‘بہت سے چھوٹے لیکن علامتی طور پر اہم طریقے ہیں کہ خواتین کو عوامی مقامات سے نکال دیا جاتا ہے۔’

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ’یہ خواتین کو عوامی مقامات میں شامل کرنے کیلئے زبردست طریقہ ہے۔’

ان تجرباتی سگنلز کو منگل کے روز خواتین کے عالمی دن سے قبل نصب کیا گیا تھا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

loading...
loading...