سورج کی روشنی میں کمی ڈپریشن سے جڑی ہے: تحقیق

فائل فوٹو

فائل فوٹو

برطانیہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی ڈپریشن کی برھتی علامات سے ملتی ہے۔

سال کے ابتدا میں برطانیہ میں ہر کسی کو تجویز دی گئی تھی کہ اندھیرے مہینوں(جن مہینوں میں سورج کی روشنی کم ہوتی ہے) کے دوران وٹامن کی سپلیمنٹس لیں۔جبکہ اب یہ چند غذاؤں جیسے تیل والی مچھلی میں پائی گئی ہے لیکن زیادہ تر لوگ وٹامن ڈی سورج کی روشنی سے جسم پر قدرتی اثر لے کر حاصل کرتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی رکٹس اور آسٹو پروسس کی صورت ہڈیوں میں دِکھتی ہے۔ لیکن یہ کمی پٹھوں پر بھی اثر انداز ہوتی  ہے اور ڈوپیمائن(کیمیکل جو دماغ میں موڈ سے متعلق ہے) کی سطح کی نارمل ہونے کی صورت میں بھی پائی گئی ہے۔

میلان میں انٹرنیشنل ارلی سائیکوسس ایسوسی ایشن میں پیش ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نےاُن 225 مریضوں، جن کا سائیکوٹک ڈس آرڈر کا علاج ہوا تھا، اور 159 اچھے بھلے لوگوں میں وٹامن ڈی کی سطح ٹیسٹ کی۔

سائنس دانوں کو اس ٹیسٹ میں سائکوسس والے لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی اور منفی علامات اور ڈپریشن کی سطح میں زیادتی میں روابط ملے ۔

سائنس دان فی الحال ایم آر آئی اسکینر کو استعمال کرتے ہوئے وٹامن ڈی کے  دماغ پر اثرات کی مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی سے متعلق مزید یہ  بھی کہنا ہے کہ عمومی طور پر سورج کی روشنی کی کمی ڈپریشن سے جڑی ہے ۔

بشکریہ انڈی پیندنٹ

loading...
loading...