جاں بحق کوہ پیماؤں کی لاشیں سامنے آگئیں

Everest_PA_Images

ماؤنٹ ایورسٹ پر جاں بحق ہونے والے سیکڑوں لوگوں کی لاشیں گلیشیئرز پگھلنے کے سبب سامنے آئی ہیں۔

پہاڑی کے ارد گرد برف میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ چونکہ گلوبل وارمنگ کے سبب دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، برف پگھل رہی ہے اور جاں بحق کوہ پیماؤں کے اجسام واضح ہو رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق تقریباً 300افراد ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کی خواہش میں جاں بحق ہوچکےہیں۔ اس چوٹی کو سرکرنے کی پہلی کوشش 1922 میں کی گئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ برف میں دو تہائی لوگ ابھی بھی دفن ہیں۔

دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی(8848میٹر) کو 4800سے زائد کوہ پیما سر کرچکے ہیں۔

جیسے جیسے بہار کا موسم آرہا ہے، حکام نئی ملنے والی لاشوں کو پہاڑ کے چینی حصے سے ہٹارہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے پر 40 ہزار ڈالرز سے 80 ہزار ڈالرز تک خرچہ آتا ہے۔  اس کام کو انجام دینا کافی مشکل بھی ہے بالخصوص پہاڑی کے بلند حصوں میں۔

Unilad بشکریہ

loading...
loading...