چین کی عجیب وغریب عمارتوں کے پیچھے موجود دلچسپ راز

aa

چین دنیا میں تیز ی کے ساتھ ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آیا ہے اور عالمی معاملات میں اپنا ایک وزن رکھتا ہے۔

اس مقام تک پہنچنے کیلئے ان کی انتھک محنت اور لگن کو فراموش نہیں کیا جاسکتالیکن اس کامیابی میں ان کی معاون ان کی بنائی ہوئی عمارتیں بھی ہیں۔

چین کے شہر ہنگ ژو میں تھوڑی علیحدہ نوعیت کی عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔

ایک عمارت سورج کی طرح دِکھتی ہے جبکہ ایک عمارت چاند لگتی ہے۔

chand sooraj

ایک عمارت دیکھ کر لگتا ہے کہ چھ لوگ ہاتھوں میں ہاتھ دیئے کھڑے ہیں۔

six

انہیں دیکھ کر پہلا خیال یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہی اشکال کیوں؟

چین میں لوگ مثبت توانائی کے خیال پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مثبت توانائی ترقی لاتی ہے جبکہ منفی توانائی ناکامیوں کا سبب بنتی ہے۔ اوریہ عمارتیں مثبت توانائی کو بڑھانے اور منفی توانائی کو ختم کرنے کے انداز میں ہی بنی ہیں۔

چینی ماہرین نے چاند اور سورج نما عمارتوں کو ایسی جگہ بنایا جہاں سے وہ دریا کی مثبت توانائی کوکھینچ سکیں۔

توانائی ان عمارتوں کے درمیان سے گزر کر چھ لوگوں کی طرح دِکھنے والی عمارت کی جانب جاتی ہے۔ جہاں وہ عمارت توانائی حاصل کرتی ہے اور اس کا رخ شہر کی جانب کردیتی ہے۔

دیگر الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ چین نے اپنے شہر کیلئے اربوں ڈالرز کی عمارتیں اس لئے بنوائی ہیں تاکہ دریا سے نہ دِکھنے والی مثبت توانائی حاصل کی جاسکے تو غلط نہ ہوگا۔

چین کے اس قدیم اعتقاد کو فنگ شوئےکہا جاتا ہے۔

اس قدیم عقیدے کے مطابق چیزوں کے رکھے ہونے کا انداز اس جگہ کی توانائی پر اثرانداز ہوتا ہے۔  جتنی زیادہ مثبت توانائی ہوگی، اتنی بہتر ہماری زندگی ہوگی اور ہنگ ژو میں فنگ شوئے کارگر نظر آتا ہے۔

ہنگ ژو دنیا کے تیزی سے بڑھنے والے شہروں میں سے ایک ہوگیا ہے اور اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ اس کی وجہ شہر کی بناوٹ ہے۔

شاپنگ مالز توانائی کے بہاؤ میں بنےہوئے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ بزنس آتا ہے۔ عمارتوں میں سوراخ ہیں جن سے یہ توانائی آگے گزرجاتی ہے۔

فنگ شوئےصرف چین میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہے۔

اکثر لوگ اپنے گھروں میں چیزوں کا تعین فنگ شوئے کے مطابق کرتےہیں۔ ان کا بیڈ، شیشہ، صوفہ، ٹی وی یا کھڑکی انتہائی مخصوص انداز میں رکھے جاتے ہیں۔ اس لیے جب آپ دن بھر خاک چھاننے کے بعد تھکے ہارے گھر آتے ہیں تو فوری طور پر مثبت توانائی کو محسوس کرتےہیں۔

Nas Daily بشکریہ

loading...
loading...