کیا زکام اور بخار سے متاثرہ لوگوں کو خون عطیہ کرنا چاہیئے؟

Untitled-1

نزلہ زکام ہوجانا ایک عام سے بیماری سمجھی جاتی ہے، جس سے ہمیں سانس لینے میں پریشانی، آواز کا بیٹھ جانا، ناک بہنا، اور گلے میں درد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سردی لگ جانے کی ابتدائی علامات میں کھانسی، ناک بہنا، چھینکیں آنا، بخار ہوجانا اور سر درد شامل ہوتی ہیں۔ جبکہ زکام کی علامات جسم میں درد، جلدی تھک جانا، تیز بخار اور جوڑوں میں درد ہوتی ہیں۔ دونوں ہی حالت میں ڈاکٹر کی جانب سے مریض کو  آرام کا مشورہ دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی وائرلز  کے استعمال کا کہا جاتا ہے۔

بلڈ ڈونیٹ کرنے کے حوالے سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جن کا علاج چل رہا ہو،  وہ سردی ،زکام سے متاثرہوں   اور اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی وائرلز  کا استعمال کر رہے ہوں ، انہیں خون عطیہ نہیں کرنا چاہیئے۔

ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ مکمل ٹھیک ہوجانے کے بعد بھی کم از کم دس دن تک بلڈ ڈونیٹ نہیں کرنا چاہیئے۔

  اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص  زکام یا بخار میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں  خون دینا  مزید بیمار کرسکتا ہے،اور نمونیا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ  متاثرہ شخص  خون عطیہ کرتا ہے تو اس کے خون میں موجود جراثیم   خون کے ساتھ دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے  خون عطیہ کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ جسم کا درجہ حرارت 99 ڈگری سے زیادہ نہ ہو اور  آپ کو زکام یا کوئی اور انفیکشن بھی نہ ہو۔

مختصراً یہ کہ خون عطیہ کرنے والے شخص کا  مکمل صحت مند ہونا ضروری ہوتا ہے۔

بشکریہ Thehealthsite

loading...
loading...