کیا بے چینی ایک مرض ہے، اس کا کوئی علاج ہے؟

Related image

جنرل فزیشن اور ایمرجنسی روم ڈاکٹر اس سے بچنے کا عام طور پر سب سے پہلا طریقہ ہیں۔ طبی مسائل جیسے تھائیرائڈ، امراض قلب اور دیگر ہارمونز کے مسائل کی ترتیب وار جانچ، اور ان کے علاج کے بعد ہی انزائٹی تشخیص کرنا انزائٹی کے علاج کا مؤثر طریقہ ہے۔

دوا کے بغیر بھی انزائٹی سے محفوظ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں تناؤ کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں اور یوگا کرنا شامل ہیں۔ تھیراپی اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی ایک اثرانگیز طریقہ ہے، خاص طور Cognitive Behavioural Therapy جس میں گفتگو کے ذریعے سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز تبدیل کیا جاتا ہے۔

کچھ ایسی دوائیں بھی ہیں جو مختصر اور طویل مدت کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ مگر عدم أگاہی، انزائٹی کے بارے میں منفی خیالات اور فوری حل کی ہماری روایتی خواہش اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ جو ڈاکٹر زیادہ دوائیں تجویز کرتا ہو وہ کم دوائیں تجویز کرنے والے سے بہتر ہے۔ عام سردی کو اینٹی بائیوٹکس سے ٹھیک کرنا اور ڈرپس اور انجکشنز کا بے دریغ استعمال بہت سے مریضوں کو مطمئن کر دیتا ہے، جس سے کاروبار بھی خوب چمکتا ہے۔

ڈاکٹر کا نسخہ ایک گھٹنا جھٹک ردِعمل ہوتا ہے، جس وجہ سے ان دوائیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے جو کہ ایک مخصوص وقت کے استعمال کے لیے ہوتی ہیں۔ اعصاب کو سکون پہنچانے والی ادویات (بینزوڈیازیپائینز) جیسے الپرازولم، لورازیپام اور ڈیازیپام جو مختلف برانڈز کے ناموں (جن میں زینکس، ایٹیون اور ویلیئم شامل ہیں) سے دستیاب ہیں، انہیں نشہ آور ہونے اور لت لگ جانے کا انتباہ دیے بغیر یونہی تجویز کردیا جاتا ہے۔ دواؤں کی بغیر نسخے کے آسانی سے دستیابی حالات اور بھی بدتر بنا دیتی ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان کے حالات تھوڑے بدلے ضرور ہیں لیکن اب بھی بغیر نسخے کے دوائی لینا نہایت آسان ہے، اس کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ میڈیکل اسٹور پر آپ کس کو جانتے ہیں اور ایسی دواؤں کی کتنی طلب رکھتے ہیں۔

اگر آپ گھبراہٹ، بے چینی یا پریشانی جیسے حالات سے گزر رہے ہوں یا بغیر کسی واضح وجہ کے مختلف جسمانی علامات ظاہر ہوں، تو سمجھ جائیے کہ آپ کو انزائٹی کا مسئلہ ہے، اور جب آپ یہ لفظ سنیں تو مایوس نہ ہوں اور یہ بھی نہیں سوچیے گا کہ کوئی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔

بے فکر ہوجائیے، ظاہر ہونے والی علامات زندگی کو لاحق کسی خطرے کی وجہ سے نہیں ہیں، اور ڈاکٹر سے پوچھیے کہ انزائٹی پر قابو پانے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

loading...
loading...