کزن سے شادی کرنا کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کزنز میں شادی کرنے والے لوگوں کے بچوں میں ڈپریشن اور بے چینی کے مسائل  پیدا ہونے کے امکانات ان لوگوں کی نسبت جو کزنز میں شادی نہیں کرتے سے 3 گُنا زیادہ ہوتے ہیں۔

آئرلینڈ میں ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد کو عام لوگوں کی نسبت دوگُنا زیادہ نفسیاتی بیماری ، جیسے کہ شرٹزوفرینیا، کی ادوایات  استعمال کیلئے بتائی جاتی ہیں۔

محققین نے یہ نہیں بتایا کہ ایسے  بچوں کو،جن کے والدین قریبی رشتےدار ہوتے ہیں ، یہ ذہنی مسائل  کیوں لاحق ہوتے ہیں۔ تاہم گزشتہ حاصل کی جانے والی معلومات میں پتہ لگا کہ ایسے بچوں میں سنگل جین ڈِس آرڈر پنپنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

ان بچوں میں ایسے مسائل اس وجہ سے ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے والدین میں ایک مخصوص ڈی این اے ہوتا ہے جو ان کے دادا دادی میں تھا۔ ایسا ہونا بچوں کیلئے سیکھنے میں مشکلات اور ذہنی معذوری جیسے مسائل  کا سبب بنتا ہے۔

دنیا میں ہر دس میں سے ایک بچے کےوالدین سیکنڈ کزن یا اس سے زیادہ قریبی رشتے دار ہوتے ہیں۔

فرسٹ کزنز کے درمیان شادیاں برطانیہ میں قانونی ہیں جو تقریباً ایک فیصد کے قریب بنتی ہیں۔

ماضی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بریڈ فورڈ میں 18فیصد شادیاں ایسے ہی رشتہ داروں کےدرمیان ، بالخصوص پاکستانی کمیونیٹی میں ہوئی ہیں۔

Daily mail بشکریہ