معجزاتی طور پر خود اپنی جان بچانے کا واقعہ

Untitled-2

زندگی میں کسی بھی مقام پر آفت آپ کا راستہ روک سکتی ہے۔  چاہے اس وقت آپ اس کا سامنا کرنے کے لیئے تیار ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن اگر کسی انسان کے اندر بر وقت مصیبتوں کا حل نکالنے کی صلاحیت ہو تو وہ بہت فائدہ میں رہتا ہے۔ بشرطیہ کہ ان صلاحیتوں کی پہچان ہونا اور انہیں استعمال کرنا آنا چاہیئے۔

آسٹریلیا کے ایک ہسپتال میں میل نرس کی نوکری کرنے والے ایک شخص نے اپنے تجربے اور معلومات کی وجہ سے خود کومرنے سے بچالیا۔  اس شخص کو خطرناک دل کا دورہ پڑا جس کے باعث اس کی موت بھی واقع ہوسکتی تھی۔

جس وقت وہ آدمی دل کی تکلیف سے دوچار ہوا، اس وقت وہ کسی بھی طبی سہولت سے 150 کلو میٹر کی دوری پر تھا۔ وہ اس وقت بھی اپنی ڈیوٹی پر تھا لیکن کوئی اور ڈاکٹر موجود نہ تھا۔ اس نے اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا شروع کردیا۔ اس میل نرس نے  سب سے پہلے اپنا ای سی جی ٹیسٹ کیا، جس میں اسے پتا چلا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے۔

 پھر اس نے اس کی رپورٹ کسی ڈاکٹر کو ای میل کی ،  ڈاکٹر سے براہ راست ویڈیو کے ذریعہ بات کی۔ ڈاکٹر کی ہدایات پر اس نے خود ہی کچھ ادویات اپنے اندر انجیکٹ کیں۔ ان ادویات میں پین کلرز، خون پتلا کرنے والی دوا اور نسوں میں جما ہوا خون تحلیل کرنے کی ادویات شامل تھیں۔

خوش قسمتی سے ان دوائیوں نے کام کرنا شروع کردیا اور دل کا دورہ ماند پڑ گیا۔ اگلے دن اسے کارڈیالوجی یونٹ میں منتقل کردیا گیا۔ دو دن تک زیر نگرانی رکھنے اور ضروری علاج کرنے کے بعد اس شخص کو صحت مند قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔

اگر وقت پر اس آدمی نے بہادری سے اپنے لئے کوشش نہ کی ہوتی تو شاید نتائج کچھ اور ہوتے۔ البتہ ڈاکٹرز اس کی ہمت کو سراہتے ہیں ۔لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر عام آدمی پر یہ طریقہ کارآمد ہوگا ۔

loading...
loading...