روزمرہ کی اشیاء میں استعمال ہونیوالا خطرناک کیمیکل

cup

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے متنبہ کیا ہے کہ  پلاسٹک کی تھیلیاں، ڈسپوزایبل کپ اور ربر میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کے سبب لوگوں کو کینسر ہوسکتا ہے۔

ادارے کی جانب سے اسٹائرین جو لیٹکس، سائنتھیٹک ربر اور پولی اسٹائرین  ریسن بنانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں( جس سے ڈِسپوزایبل پلاسٹک پیکنگ بنائی جاتی ہے)، کو انسان کیلئے قوی امکان پر کارسینوجینک میں شمار کرلیا گیا ہے۔

اس کیمیکل نے 40سال تک ممکنہ کارسینوجینک (کینسر کا سبب بننےوالے)کی فہرست میں گزارے لیکن اس ہفتے اس مزید خطرناک قراردےدیا گیا۔

تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جو کام پر اسٹائرین کا استعمال کرتے ہیں ان میں لیوکیمیا کے خطرات دُگنے اور مخصوص قسم کے ناک کے کینسر کے امکانات 5 گُنا تک بڑھ جاتے ہیں۔

ایک عام بندہ سب سے زیادہ فضائی آلودگی  یا پرنٹرز، فوٹو کاپیئر یا سیگریٹ کے دھوئیں  کی وجہ سے اسٹائرین کی زد میں آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اگرچہ ڈنمارک میں (جہاں یہ تحقیق ہوئی) کام کرنے کی جگہوں پر اسٹائرین کے خطرات کو بہتر کیا گیا ہےلیکن دنیا بھر میں اب بھی یہ مسئلہ ہے۔

یہ تحقیق انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے تحت کی گئی جو عالمی ادارہ برائے صحت کی ایک ماہر شاخ ہے اور یہ اب دنیا بھر میں اس متعلق تنبیہ جاری کرے گی۔

انٹرنیشنل ایجنسی نے دنمارک کے  70ہزار سے زائد افرادکا ریکارڈ دیکھا جنہوں نے 1968سے 2011کے درمیان پلاسٹک انڈسٹری میں کام کیا تھا۔

Daily mail بشکریہ

loading...
loading...