داڑھی کے طبی فائدے سائنس بھی تسلیم کرنے پر مجبور

yousuf

اسلام ایک ضابطہ حیات ہے اور دین اسلام نے جو باتیں آج سے چودہ سو سال قبل بنی نوع کو بتادیں ، ان باتوں کی حقیقت اور فائدوں کو سائنس آج تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ عام طور پر داڑھی کا واجب ہونا زیر بحث رہتا ہے لیکن اسکے طبی فائدوں سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔

حتی کہ مسلم معاشروں کے علاوہ غیر مسلم معاشرے میں بھی داڑھی کو محض فیشن یا پھر شخصیت میں نکھار کیلئے رکھا جاتا ہے۔

عام لوگ بہت کم  اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ داڑھی رکھنا کئی طرح کے مسائل اور طبی پریشانیوں سے قدرتی طور پر انسان کو بچاتا ہے، ذیل میں وہ مسائل بیان کیے گئے ہیں۔

کینسر سے بچاو

الٹراوائلٹ ریز انسانی جلد کیلئے انتہائی مضر ہیں اور یہ عام طور پر جلد کے کینسر کا باعث بھی بنتی ہیں۔ داڑھی کی وجہ سے الٹراوائلٹ شعاعیں انسانی جلد کی تہہ پر اثرانداز نہیں ہوتی جس کی وجہ سے انسان چہرے کی جلد کی بیماریوں حتی کہ جلد کے کینسر سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق داڑھی کی بدولت پچانوے فیصد الٹراوئلٹ ریز جلد تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں۔

الرجیز سے حفاظت

داڑھی کے بالوں کی ایک خصوصیت ان کی چھلنی ہونیکی بھی ہے، کیونکہ ان سے ہوا فلٹر ہوکر گزرتی ہے جس سے پولن الرجی یا دیگر اس نوعیت کی الرجی سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

سردی اور خشک جلد سے حفاظت

داڑھی کی بدولت انسانی جلد کو گرمائش ملتی رہتی ہے جس کی بدولت انسان نہ صرف سردی سے محفوظ رہتا ہے بلکہ اس سے جلد بھی خشک نہیں ہوتی کیونکہ بالوں میں ایک مخصوص قسم کے گلینڈز اسکونرم و ملائم رکھتے ہیں۔

داڑھی سے جھریوں سے تحفظ

دھوپ اور دیگر انسانی جلد پر اثرانداز ہونے والی شعاعیں جلد پر پڑھنے سے جھریاں پیدا ہوتی ہیں ، داڑھی کی بدولت انسان ان جھریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

داڑھی سے دمے میں افاقہ

ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ داڑھی کے بالوں کی بدولت انسان دمے کے مضر صحت جرثوموں سے بھی محفوظ رہتا ہے کیونکہ داڑھی ان جرثوموں سے بھی انسان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔