حساس ادارے جھوٹ کیسے پکڑتے ہیں؟

INVESTIGATE

ہمیں یقین ہے ہمارے ساتھیوں کی اکثریت شرفاء پر مشتمل ہے، تاہم پھر بھی آپ کی دلچسپی کو مدد نظر رکھتے ہوئے ہم دوسروں کا جھوٹ پکڑنے کے چند آزمودہ نسخے بتا رہے ہیں۔ جن کو نہ صرف عام زندگی میں فائدے مند سمجھا جاتا ہے بلکہ حساس ادارے بھی جرائم کی تفتیش و تحقیق کے دوران ان نسخوں کو آزما کر جرائم پیشہ افرد کے جھوٹ اور سچ میں امتیاز کرنے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔

علم ِنفسیات کی رو سے جھوٹ پکڑنے کے متعددطریقے بتائے جاتے ہیں۔ لیکن آج ہم آپ کو ان میں سے چند اہم طریقے بتائیں گے۔

 اگر آپ کسی ایسے ادارے سے منسلک ہیں جس میں فرائض کی انجام دہی کے دوران جرائم پیشہ افراد سے سچ اُگلوانا مقصود ہو تو  تشدد کا راستہ اپنائے بنا،  اسے احترم کے ساتھ کرسی پر اپنے سامنے بٹھائیں۔ پھر شروع سے آخر تک اس واقعے کی تمام روداد اس کی زبانی سنتے ہوئے ریکارڈ کرلیں۔

 درمیان میں جس قدر ممکن ہو گھنٹوں یا دنوں کا وقفہ رکھتے ہوئے دوبارہ وہی داستان اس کی زبانی سن کر ریکارڈ کرلیں۔

پھر اس عمل کو ایک سےزیادہ دفعہ دہرائیں اور  ریکارڈ شدہ بیان کی تین یا چار آڈیوز جتنی بھی بنتی ہیں ان کو سنیں اور ان کے درمیان تفاوت کو پرکھنے کی کوشش کریں۔

اگر وہ شخص جھوٹا ہے تو اس کے بیانات میں موجود  واضح تضاد اس کے جھوٹ پر مہر ثبت کردے گا۔

لیکن یہ  بات دھیان میں رہے کہ اس شخص کو ریکارڈنگ کی خبر بھی نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آپ کو دورانِ گفتگو مدد نظر رکھنی ہونگی۔ جیسے کے اس کی باڈی لینگویج کا تجزیہ بھی آپ کے مقصد میں بہت حد تک  معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اگر وہ شخص اعتماد کے ساتھ اور بغیر کوئی وقفہ لیے آپ کے سوالات کا جواب دے رہا ہے ، تو وہ یقیناًسچا آدمی ہے۔

بصورتِ دیگر سچ کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہمارے جھوٹے سیاست دانوں کی طرح نہ صرف وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرے گا ،بلکہ وہ آپ کی ہر بات کا جواب بھی اٹک اٹک کر دے گا۔

اسی طرح اگر آپ یہ محسوس کریں کہ وہ شخص دوران گفتگو آپ سے نظریں چرانے کی کوشش کرے یا نیچے دیکھے، تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

اگر وہ شخص دوران سولات  بار بار پہلو بدلے یا اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے انگلیاں چھپانے کی کوشش کرتا محسوس ہو،  تو سمجھ لیں کہ جھوٹ اسے بےچین کر رہا ہے۔

اسی طرح عدالت میں بھی دورانِ جراح جھوٹا ملزم نہ صرف بات کو گول مول یا غیر موزوں جواب دینے  کی کوشش کرتا ہے بلکہ جب  وکیل بار بار ایک ہی سوال دہرائے تو ملزم کے لہجے میں تیزی  اور تبدیلی بھی جج اور حاضرین کو اس کے جھوٹ کی گواہی دیتی ہے۔

 اس کے  علاوہ دوران جراح یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ دانا وکیل وقفے وقفے سے  مخصوص سوالات کو بار بار دہرا کر چیک کرتا ہے۔ اگر ملزم سچا ہو تو وہ نہ صرف پر سکون انداز اور اطمینان کے ساتھ بار بار پوچھے گئے سوال  ایک ہی جواب دیتا ہے بلکہ یہ جتاتا بھی ہے کہ جناب میں اس سوال کا جواب پہلے بھی دے چکا ہوں ۔

جبکہ جھوٹا شخص بار بار ایک سوال کے جواب میں نہ صرف چڑ چڑے پن اور اُکتاہٹ کا اظہار کرتا ہے بلکہ ہر بار اس کا جواب پہلے دیئے ہوئے بیان کے مقابلے میں قدرے مختلف ہوتا ہے۔

اس کی نظریں نیچے یا پھر کمرہ عدالت کا طواف کرنے میں مصروف ہوتی ہیں۔اس شخص کے انداز واطوار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ  وہ اس کوشش میں ہے  کہ جلد از جلد سوال وجواب کا یہ سلسلہ ختم ہوسکے۔

اکثر اوقات یہ رد عمل بھی دیکھنے میں آیا ہےکہ جھوٹا شخص  ذہنی دباؤ اور اذیت کی وجہ سے اس قدر پریشان ہوتا ہے کہ اس کے منہ سے ایسے الفاظ بھی نکلتے ہیں کہ آپ بار بار مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں۔

جھوٹ بولنے والے شخص کی آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دیتیں۔جبکہ اگر آپ تجزیہ کر سکیں تو جھوٹ بولتے وقت  کسی بھی شخص کی سانسیں  نارمل نہیں ہوتیں بلکہ قدرےتیز ہوجاتی ہیں۔ اور اگر اسے کسی مشکل سوال کا سامنا ہو تو  جواب دیتے وقت وہ لمبی اور ٹھنڈی سانس بھی لے سکتا ہے۔

تیز ذہن کا مالک اور عادی مجرم ہے تو دورانِ گفتگواس کی اوور ایکٹنگ میں بھی آپ کا جواب پوشیدہ ہوگا۔ یہ وہ نمایا ں علامات ہیں جو جھوٹ بو لنے والے میں دیکھنے میں آتی ہیں۔ لیکن ان  نسخوں کو معصوم بچوں پر ہر گز استعما ل نہ کریں۔کیونکہ بچے ہمیشہ من کے سچے ہوتے ہیں۔

loading...
loading...