تاریخ کی 8 مہنگی ترین غلطیاں

Untitled-1

انسان خطا کا پتلا ہے، ہم سب غلطیاں کرتے ہیں اور کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی کبھار ہماری چھوٹی سی غلطی بہت مہنگی پڑ جاتی ہے، اور پچھتاوے کے ساتھ صرف ایک سوال پیچھے چھوڑ جاتی ہے ‘یہ کیسے ہوا؟’

آج ہم آپ کو تاریخ کی چند مہنگی ترین غلطیوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جنہوں نے لوگوں کو سر پکڑنے پر مجبور کردیا۔

٭ ڈیڑھ سو سال پرانے گٹار کی تباہی

کوینٹن ٹیرینٹینو کے گانے ‘دی ہیٹ فل ایٹ’ میں جینیفر جیسن نے جو گٹار بجایا تھا وہ 150 سال پرانا تھا۔ اس گٹار کو شوٹنگ کیلئے مارٹن گٹار میوزئیم سے کرائے پر لیا گیا تھا۔ لیکن کرٹ رسل کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا، اور ونہوں نے اسے نقلی سمجھتے ہوئے توڑ دیا۔

٭ چوڑی ٹرینیں پتلے پلیٹ فارمز

2014 میں ایس این ایف سی ریلوے نے اپنے ۓٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں تجدید کرنے کی سوچی اور 2000 ٹرینوں کا آرڈر دیا جن کی لاگت 15 بلین یورو تھی۔ بدقسمتی سے پلیٹ فارمز کا جو ناپ لیا گیا وہ 30 سال پرانا تھا۔ جب تک انہیں اس بات کا احساس ہوا دیر ہوچکی تھی۔ بعدازاں پلیٹ فارمز کو چوڑا کرنے میں مزید 50 ملین یورو خرچ کئے گئے۔

٭ ایک غلط لفظ اور 225 ملین ڈالرز کا نقصان

ایک جاپانی کمپنی میزوہو سیکیوریٹیز ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج میں اپنا ایک شئیر 610000 ین یعنی 5000 ڈالرز میں بیچنا چاہتی تھی۔ لیکن بد قسمتی اسٹاک بروکر نے غلطی سے 610000 شئیرز کی قیمت ایک ین درج کردی اور کمپنی کوبھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

٭ آبدوز جو پانی کے نیچے جانے کے بعد سطح پر نہیں آ سکتی تھی

ہسپانوی حکومت نے نئی سب مرین ‘آئزیک پیرل’ کو بنانے کیلئے 1.75 بلین یورو خرچ کئے۔ لیکن بنانے کے دوران پتا چلا کہ یہ بہت بھاری ہے اور اگر پانی کے نیچے گئی تو واپس سطح پر نہیں آسکے گی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے انہیں اس آبدوز کا وزن کم کرنا پڑا اور اس کے ہل کا حجم بھی بڑھانا پڑا ، جس میں مزید خرچا آیا۔

٭ الاسکا کی فروخت

انیسویں صدی کے آخر تک روس کے ایلیگزینڈر دوئم الاسکا کو صرف برف سے ڈھکی ایک زمین سمجھتے تھے۔ مارچ 1867 میں روس نے اس زمین کو امریکا کو بیچنے کا فیصلہ کیا اور اسے 7.2 ملین ڈالرز میں فروخت کردیا۔ اس وقت روبل اور ڈالر کی قدر ایک تھی۔ روس کو اس ڈیل سے تھوڑا کم منافع ہوا اور اس نے کھربوں کے قدرتی وسائل گنوا دئے۔

٭ پوری اسپیش شپ کھونا

مارس کلائمیٹ آربیٹر مریخ پر ماحلو کو جاننے کیلئے بنایا گیا تھا۔ لیکن ایک انوکھی غلطی کے باعث اس اسپیش شپ سے رابطہ اس وقت منقطع ہو گیا جب ناسا کی ایک کریو ممبر امپیرئیل یونٹس اور دوسرے نے میٹرک یونٹس کا استعمال کیا۔ جس کے باعث اسپیس شپ انتہائی نچلی سطح پر آگئی اور مریخ کی سطح سے ٹکرا گئی۔،

٭ گاڑیوں کو پگھلانے والی عمارت

مقعر شکل اور شیشے کی سطح کے باعث لندن کا اسکائی اکریپر ‘واکی ٹاکی’ ٹاور ایک بڑے شیشے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس سے گزرنے والی سورج کی شعاعیں منعکس ہو کر اتنی تیز ہوجاتی ہیں کہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کا پگھلا دیتی ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے پورے ٹاور پر سن پروٹیکشن کی ایک تہہ چڑھائی گئی۔

٭ واسا، ڈوبتا جہاز

سترھویں صدی میں اس وقت کے بادشاہ کے حکم پر واسا نامی بحری جہاز بنایا گیا جسے سویڈش نیوی کا مرکزی جہاز بننا تھا، لیکن غلط ڈیزائن کے باعث یہ جہاز پانی میں اتارتے ہی ڈوب گیا۔ جہاز بہت زیادہ متزلزلتھا اور ہوا کے ایک تیز جھونکے نے اسے پلٹ دیا، اور لوگوں کے دیکھتے ہی دیکھتے یہ جہاز سمندر کی تہہ میں بیٹھ گیا۔

loading...
loading...