انیسویں صدی میں سزائے موت کیسے دی جاتی تھی؟

-Getty images

-Getty images

انیسویں صدی میں مختلف جرائم کی سزا انتہائی خطرناک ہوا کرتی تھی.

34 مختلف انداز سے سر عام دی جانے والی خطرناک سزائیں  عام اور معصوم لوگوں کے دل دہلا دیا کرتی تھیں  اور لوگوں  کا مسلسل یہ دباؤ تھا کہ ان سزاؤں میں کسی حد تک نرمی کی جائے ۔ 

انتہائی بے رحم انداز سے دی جانے والی ان سزاؤں میں سر قلم کرنا ،  گولی مارنا ،  پھانسی دینا ،  زہریلی گیس کا استعمال ،  جسم کے دو ٹکڑے کرنا ، زندہ جلا نا ،  اور اُبالنا، سولی چڑھانا، ڈبونا، ریکنگ،  سنگ ساری کے علاوہ دیگر ایسے طریقے کار موجود تھے جن کا شمار غیر انسانی سلوک  کے صفہ اول میں کیا جاسکتا ہے ۔ 

-Getty images

-Getty images

لہٰذا عوام کے شدید اصرار کے بعد سزاؤں کے اس انداز میں تبدیلی  کی گئی تھی۔   1887 میں ایک گیری کمیشن بنایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصدیہ تھا کہ ان سزاؤں میں کسی حد تک تبدیلی کر دی جائے اور ان سزاؤں کو الیکٹریکل چئیر پر منتقل کر دیا جائے ۔ 

جس کے بعد اس الیکٹرک چئیر کا آغاز کیا گیا  اور 1890 میں اس طریقہ کار کے تحت سب سے پہلے ولیم کریملر نامی شخص کو سزا دی گئی تھی ۔ 

-Getty images

-Getty images

واضح رہے کہ اس وقت پورےامریکا میں سزائے موت کیلئے الیکٹروک چئیر کا استعمال کیا جاتا ہے ۔  جبکہ بعض علاقوں میں آج بھی پھانسی دی جاتی ہے ۔

بشکریہ  ڈیلی میل