سابق اسپنر سعید اجمل نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا

ajmal

پاکستان کے سابق مایہ ناز آف اسپنر سعید اجمل نے نیا پنڈورا باکس کھول کر رکھ دیا، ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جس وقت یونس خان کپتان تھے تو انہیں ٹیم کے دیگر کھلاڑی پسند نہیں کیا کرتے تھے۔

انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابق کپتان یونس خان غصے کے بہت تیز تھے جس کی وجہ سے انہیں ٹیم  کے دیگر کھلاڑی پسند نہیں کیا کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ 2009 میں جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران وہ خود بھی کپتان یونس خان کے خلاف گروپ بندی (لابنگ) میں ملوث تھے۔

سابق آف اسپنر نے بتایا کہ جب یہ بات یونس خان کو پتا چلی تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اس حوالے سے مجھ سے دریافت کیا۔

یونس خان کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں نے قرآن پاک پر حلف دیا ہے کہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا اور میں حلف دیتا ہوں کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا، میں تھا اور مجھے نہیں پتا کہ اور کتنے بندے تھے’۔

یعنی جس کمرے میں یونس خان کے خلاف بات ہورہی تھی وہاں حلف بھی لیا گیا تھا کہ اس کمرے کی بات یہاں سے باہر نہیں جائے گی۔

سعید اجمل نے بتایا کہ حلف لینے اور تمام باتیں ہونے کے صرف 3 منٹ بعد ہی یہ خبر میڈیا پر نشر ہوگئی، یعنی وہاں موجود افراد میں سے کسی نے حلف کی خلاف ورزی کی۔

میزبان کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کمرے میں شاہد آفریدی بھی تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں کسی کا نام نہیں لوں گا، اس کمرے میں 10 سے زائد بندے تھے۔

سعید اجمل سے یونس خان کے رویے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا رویہ بالکل ٹھیک تھا، میدان میں وہ جارح مزاج تھے، میرے کیریئر کے دوران بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت میں ایک جونیئر کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم میں موجود تھا، مجھے 8 سینیئرز کی جانب سے کہا گیا کہ اگر آپ نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہم آپ کو ٹیم سے باہر کردیں گے۔

loading...
loading...