برازیلئین فٹبال ٹیم سفید کِٹ سے کیوں ڈرتی ہے؟

Untitled-1

فٹ بال کے شائقین نے شاید برازیل کو کبھی سفید کٹ پہن کر کھیلتے نہیں دیکھا ہوگا۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟

ورلڈ کپ اور اسپورٹس میں رونما ہونے والی دلچسپ اور انوکھی کہانیوں کو ڈھونڈنے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے نے صحافی لوچیانو ورنیکی سے بات کی، جو 1993 ء سے فٹ بال سے منسلک ناقابل یقین واقعات اکٹھے کرتے آرہے ہیں۔

لوچیانو ورنیکی نے بی بی سی کو بتاتے ہوئے کہا کہ 1950ء کے ورلڈ کپ کا ‘ماراکنازو’ کا مشہور واقعہ یاد ہے ؟ اسی ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم برازیل کی کٹ کا رنگ سفید تھا۔

ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے یہی لگتا تھا کہ میزبان ٹیم ہی ورلڈ کپ جیتے گی، لیکن یوروگوئے نے سب کو حیران کرکے دوسری بار ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔

برازیلین فٹبال ٹیم سفید کٹ کیوں نہیں پہنتی،حیرت انگیز انکشاف

تب سے لے کر آج تک برازیل کی ٹیم نے کبھی سفید رنگ کی کٹ نہیں پہنی۔ اس کے بجائے کھلاڑی اب پیلے یا نیلے رنگ کی جرسیاں پہنتے ہیں۔

لیکن محض رنگ ہی نہیں، شکست کھانے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی بدشگون سمجھا جاتا تھا اور انھیں دنیائے فٹ بال سے دور رکھا گیا۔

یہاں تک کہ اس واقعے کے 43 سال بعد بھی اس ٹیم کے گول کیپر باربوسا کو 1993 ء کے ورلڈ کپ سکواڈ سے ملنے تک کی اجازت نہ تھی۔

حال ہی میں برازیل کو ایک اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جب 2014 ءکے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل میچ میں میزبان ٹیم کو جرمنی نے ایک کے مقابلے میں سات گول سے ہرا دیا۔

اس شکست کی ذمہ داری بھی ‘ماراکنازو” والی متنازع اسکواڈ پر ڈال دی گئی۔

loading...
loading...