اکیسویں صدی کی سب سے بہترین گیند

Untitled-1

آسٹریلیااور انگلینڈ کے درمیان جاری تیسرے ایشز ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی ٹیم فتح کی جانب گامزن ہے اور انگلینڈ پر اننگز کی شکست اور ایشز سیریز گنوانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

پرتھ ٹیسٹ میں ڈیوڈ ملان نے 140 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو تباہی سے بچایا اور اس کے جواب میں آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ نے ڈبل سنچری اسکور کی جبکہ مچل مارش نے بھی 181 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن حیران کن طور پر ان تمام اننگز کے باوجود آسٹریلیا اور انگلش میڈیا میں مچل اسٹارک کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

مچل اسٹارک نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں 55 رنز کی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کیلئے خطرہ بننے والے جیمز ونس کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو چوتھی کامیابی دلائی اور ان کی اس شاندار گیند کو ‘صدی کی بہترین گیند’ قرار دیا جا رہا ہے۔

بائیں ہاتھ کے مچل اسٹارک نے راؤنڈ دی وکٹ آکر گیند پھینکی جو بیچ وکٹ میں پڑنے کے بعد لیگ اسپن کی طرح جیمز ونس کی آف اسٹمپ اڑا لے گئی۔

اس گیند کے سوشل میڈیا پر اسٹارک کی واہ واہ کی جانے لگی اور کرکٹ شائقین کے ساتھ ساتھ چند نامور کرکٹرز نے اس گیند کو ‘صدی کی بہترین گیند’ قرار دے دیا۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے اپنی ٹوئٹ میں اسے صدی کی بہترین گیند قرار دیا۔

سوئنگ کے بادشاہ اور قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی اس گیند کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے کہا کہ اسٹارک کی اس گیند نے انہیں اپنے باؤلنگ کے دنوں کی یاد دلا دی۔

اس گیند کا شکار ہونے والے جیمز ونس بھی اسٹارک کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے اور انہوں نے کہا کہ اگر میں دوبارہ 20 سے 30 مرتبہ بھی اس گیند کا سامنا کرتا ہوں، تو بھی ہر مرتبہ آؤٹ ہو جاؤں گا۔

20ویں صدی کی بہترین گیند کرانے کا اعزاز رکھنے والے سابق عظیم لیگ اسپنر شین وارن نے بھی سوال کیا کہ کیا اسے صدی کی بہترین گیند قرار دیا جا سکتا ہے؟  

بشکریہ Telegraph

loading...
loading...