پی ایس ایل 3: کرس گیل کو کیوں پِک نہیں کیا گیا؟ 5 وجوہات جانیئے

gayle

\پی ایس ایل تھری کے لئے ڈرافٹنگ کا مرحلہ مکمل ہوگیا لیکن کسی بھی فرینچائز نے یونیورس باس، ہارڈ ہٹِنگ بلے باز کرس گیل کو پِک نہیں کیا۔ جبکہ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے اس بلے باز کو دنیا کی دیگر لیگز میں کافی بھاری معاوضے کے عوض اپنی ٹیموں میں شامل کیا جاتا ہے۔

آج ہم آپ کو ان 5 وجوہات کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جن کے باعث کرس گیل کو پی ایس ایل تھری کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

دستیابی کا مسئلہ

ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم اس وقت آئی سی سی کی ون ڈے رینکنگ میں نمبر 9 پر موجود ہے جس کی وجہ سے انہیں اگلے برس ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے۔ حال ہی میں کرس گیل کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے اور وہ مستقبل میں بھی ٹیم پلان کا حصہ ہیں جس کے باعث ان کی دستیابی پر کچھ سوالات تھے۔

کارکردگی کا مسئلہ

ویسٹ انڈین بلے باز کو اولین پی ایس ایل میں لاہور کی ٹیم نے اپنا حصہ بنایا لیکن ان کی کارکردگی اس معیار کی نہ رہی جتنی ان سے توقع کی جارہی تھی۔ کرس گیل نے 5 میچ کھیل کر صرف 103 رنز اسکور کئے۔

پی ایس ایل ٹو میں انہیں لاہور نے ریلیز کیا اور کراچی نے اپنے اسکواڈ کا حصہ بنالیا تاہم ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان برقرار رہے کیونکہ انہوں نے 9 میچز میں کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے محض 160 رنز اسکور کئے۔

ہینڈل کرنے میں مشکلات

پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں کچھ ایسی رپورٹس منظر عام پر آئیں جن سے اس بات کی وضاحت ہوئی کہ کرس گیل اور لاہور کی فرینچائز میں کچھ معاملات ٹھیک نہیں چل رہے جس کے بعد انہیں دوسرے سیزن کے لئے ریلیز کردیا گیا۔

آؤٹ فیلڈ میں سست

کرس گیل کا کھیل سب ہی جانتے ہیں وہ نہ تو زیادہ تیز رننگ کرتے ہیں اور نہ ہی فیلڈنگ میں چھلانگیں وغیرہ لگاتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسے مزاج کے حامل بلے باز ہیں جو کھڑے کھوڑے گیند کو میدان کے باہر پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کی رننگ بٹوین دی وکٹ اور آؤٹ فیلڈ میں سستی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی پِک نہیں کیا گیا۔

نام نہیں کارکردگی

اب لیگز کی فرینچائزز نام سے زیادہ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ چونکہ کرس گیل گذشتہ دونوں سیزنز میں بری طرح ناکام رہے ہیں تو فرینچائزز نے انہیں پِک نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

Thanks to cricingif