فٹبال ورلڈ کپ میں گولڈن بال جیتنے والے5عظیم کھلاڑی

ronaldo-brazila

فیفا ورلڈ کپ کے دوران  بہترین کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑی کو گولڈن بال ایوارڈسے نوازا جاتا ہے۔ اس انعام کو دیئے جانے کی رِیت 1982کے ورلڈ کپ میں ڈلی۔

سب سے پہلے گولڈن بال ایوارڈ کے فاتح اطالوی کھلاڑی پاؤلو روسی تھے۔ جن کے بعد سے اب تک آٹھ کھلاڑیوں کو یہ ایوارڈ دیا جاچکا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں کسی کو بھی یہ ایوارڈ دو بارہ نہیں ملا۔

اکثر یہ ایوارڈ ان کھلاڑیوں کو دیا جاتا ہے جو ورلڈ کے فاتح ٹیم سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن صرف روسی، ڈیئیگو میریڈونا اور روماریو وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے ورلڈکپ اور یہ ایوارڈ ایک ساتھ جیتا۔

ہم آپ کو بتاتے ہیں فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کے پانچ عظیم گولڈن بال ایوارڈیافتہ کھلاڑیوں کے بارے میں۔

(ڈیئیگو میریڈونا(میکسیکو1986

ورلڈ 1986 میں میریڈونا نے بہترین انفرادی کارکردگی مظاہرہ کیا جو کسی بھی عالمی ایونٹ کبھی دیکھا ہو۔

نیپولی سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نےبعد والوں کیلئے  ایک ایسے معیار کا تعین کردیا جسے قومی ٹیم کیلئے میسی بھی اب تک نہیں چھو سکے۔

پورے ٹورنامنٹ میں میریڈونا نے پانچ گول اسکور کیے اور پانچ گولز میں مدد کی۔

انگلینڈ کےخلاف کوارٹر فائنل میں ان کارکردگی قابلِ دید تھی۔ جس میں انہوں نے اپنا کھاتا مشہور’ہینڈ آف گاڈ’ گول سے کھولا اور پھر دوسرا گول زبردست گول دور سے گیند لاکر کیا۔

ان کا کھیل بیلجئیم کےخلاف سیمی فائنل میں بھی واضح فرق ثابت ہوا جس میں انہوں نے دو گول کیے۔

اس کے بعد میریڈونا نے ارجنٹینا کومغربی جرمنی کےخلاف  فائنل میں ایک لاکھ 14ہزار تماشائیوں کے سامنے فتح سے ہمکنار کرایا۔

(پاؤلو روسی(اسپین 1982

پاؤلوروسی سب سے پہلے گولڈن بال ایوارڈ جیتنے والے کھِلاڑی ہیں۔وہ 1982 کے ورلڈ کپ میں خود کو منوانے آئے تھے کیوں کہ اس سے قبل ان کو سٹے بازی میں ملوث پائے جانے کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔ ان الزامات کی روسی نے ہمیشہ تردید کی۔

انہوں نے 1980کی یورپین چیمپئن شپ میں حصہ نہیں لیا تھا جسے انہوں نے’ناانصافی’ کا نام دیا تھا جبکہ ورلڈ کپ سے پہلے 82-1981سیزن کے آخری میں وہ ایکشن میں دِکھائی دیئے تھے۔

گروپ مراحلے میں ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی لیکن کوچ اینزو بیئرزوٹ نے دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے انہیں ناک آؤٹ مراحل میں بھی ٹیم میں رکھا۔

اگر اٹلی کے دفاع کی بات کی جائےتو انہوں نے ارجنٹینا کے خلاف 1-2سے فتح سمیٹی۔ روسی  نے سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ فیورٹ برازیل خلاف ہیٹ ٹریک داغ کر سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی۔

مغربی جرمنی کےخلاف فائنل میں انہوں نے پہلا گول کر کے ٹیم کی 1-3سے حاصل کی جانے والی فتح کی بنیاد ڈالی گولڈن بال، گولڈن بوٹ اور ورلڈ کپ  حاصل کیا۔

(رُماریو(یو ایس اے 1994

رونالڈو سے پہلے برازیل کے پاس رُماریو کی شکل میں ایک خطرناک اٹیکنگ  کھلاڑی تھا۔

رُماریو نے پہلے میچ میں روس کے خلاف کھاتا کھولا اور باقی گروپ میچز میں بھی گول اسکور کیے۔

ان کی یہ کارکردگی ناک آؤٹ مرحلوں میں بھی جاری رہی جس میں پہلے نیدرلینڈز کےخلاف 2-3سے فتح اور سیمی فائنلز میں فتح شامل ہے۔

(زینیڈین زیڈان(جرمنی 2006

جرمنی 2006 کا اختتام زیڈان کیلئے تباہ کن رہا جس میں ان کے ورلڈکپ اور پروفیشنل کیریئر کا اختتام اطالوی کھلاڑی مارکو میٹارازی کو ٹک مارنے کی صورت میں گراؤنڈ چھوڑنے پر ہوا۔

ریڈ کارڈ حاصل کرنے سے پہلے پہلے زیڈان فائنل میں بہترین اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ پیش کررہے تھے۔

زیڈان نے پورے ورلڈ کپ میں ہی زبردست کھیل پیش کیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے فائنل میں ان کے باہر جانے کی وجہ سے فرانس پینلٹی شوٹ آؤٹ کا میں 3-5سے شکست کھاگئی۔

آٹھ برس قبل وہ فائنل میں دو گول اسکور کر کے فران کے ہیرو بنے تھے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ  یہ ورلڈ کپ ان کا سب سے بہترین ورلڈ کپ تھا۔

(رونالڈو(فرانس 1998

ورلڈ کپ 1998کے فائنل کی صبح ہونے والی گفتگو کےمتعلق زیڈان نے بتایا کہ  میں نے دیکھا لیلیئن تھورام، لورنٹ بلانک اور کوچ آئم جیکے رونالڈو کے متعلق بات کررہے تھے کہ اگر رونالڈو اس اس طرح سے کھیلا تو ہمیں اُسے اس طریقے سے روکنا ہوگا۔

یعنی اتنے بہترین ڈیفینڈرز کا ایک اسٹرائیکر کے متعلق بات کرنا جو انٹر مِلان کے ساتھ ایک بہترین سیزن گزار کر آیا تھا اور بےشک دنیا کا بہترین کھلاڑی تھا،زرا حیران کن تھا۔

ورلڈ کپ 1998 برازیل کی فائنل میں رسائی میں رونالڈو کے چار گولزاسکور کرنے اور 3گولز نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی طاقت، رفتار اور غضب کی فنیشنگ مخالف ٹیم اور ان کے درمیان واضح فرق ہوتا تھا۔ جو بالخصوص کوارٹرفائنل میں چلی اور سیمی فائنل میں نیدرلینڈز کےخلاف  واضح  طور پر دیکھا گیا۔

فائنل سے قبل  بدقسمتی سے رونالڈو بیمار پڑ گئے اور آخری وقت میں ٹیم سے ان کا نام نکالنا پڑگیا اور بازیل ، فرانس کےخلاف فائنل 0-3سے ہارگیا۔

Sportskeeda بشکریہ

loading...
loading...