انضمام الحق، فہیم اشرف اور امام الحق کو ٹیسٹ کیپ کیوں نہ دے سکے؟

najam

ڈبلن: آئرلینڈکے خلاف ڈبلن کے مقام پر کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں امام الحق اور فہیم اشرف کا ٹیسٹ ڈیبیو ہونا تھا جس میں انہیں قومی ٹیم کے چیف سلیکٹرز انضمام الحق نے ٹیسٹ کیپ دینا تھی لیکن ایک عجیب و غریب صورتحال کے باعث یہ کام کرکٹ بورڈ کے چیئر مین نجم سیٹھی کو سرانجام دینا پڑا۔

سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کے بجائے چیئرمین پی سی بی کی جانب سے امام الحق اور فہیم اشرف کو ٹیسٹ کیپ دینے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انضمام الحق کو ٹیکسی ڈرائیور نے غلط پر جگہ اتار دیا جس کے سبب وہ ٹیسٹ میچ کے آغاز کے مقررہ وقت تک میدان میں نہ پہنچ سکے۔

ایک ٹی وی چینل پر فہیم اشرف اور امام الحق کو ٹیسٹ کیپ دینے کی وضاحت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے بتایا ہے کہ ڈبلن میں امام الحق اور فہیم اشرف کو ٹیسٹ کیپ پہنانے کا فریضہ چیف سلیکٹر کو انجام دینا تھا البتہ ٹیکسی ڈرائیور نے انضمام الحق کو غلط جگہ پر اتار دیا اور منیجر طلعت علی کی درخواست پر انہوں نے ٹیسٹ کیپ پہنانے کا کام کیا۔

آئرلینڈ کے خلاف ڈیبیو کرنے والے فہیم اشرف نے پہلی اننگز میں پاکستان کو مشکلات کے بھنور سے نکالتے ہوئے 83 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی اور ٹاپ اسکورر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

پاکستان کو جب میچ میں فتح کے لئے آخری اننگز میں 160 رنز بنانا تھے تو ابتدائی 3 بلے باز محض 14 رنز پر پویلین لوٹ گئے لیکن امام الحق اور بابر اعظم چٹان بن کر آئرش بولرز کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ بابر اعظم نے 59 جبکہ امام الحق نے ناقابل شکست 74 رنز بناکر ٹیم کو 5 وکٹوں سے فتحیاب کروایا۔

فہیم اشرف اور امام الحق کو ٹیسٹ کیپ ملنے سے طویل فارمیٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرزکی تعداد 231 ہوگئی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی پیش کرکے اپنے انتخاب کو درست ثابت کردکھایا ہے۔

loading...
loading...