انسانی جسم میں چھپا نیا عضو دریافت

-The Mirror

-The Mirror

 آئرلینڈ کے سائنسدانوں کی جانب سے انسانی جسم پر  کی گئی تحقیق کے دوران ایک نئے عضو کے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  سائنسدان نے انسانی جسم میں چھپا ایک نیا عضوجسے’میسینٹری’ کا نام دیا گیا ہے تلاش کرلیا جو نظام انہضام میں چھپا ہوا تھا جس کے ذریعہ 100 سال پرانی اناٹمی کو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے ۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ  ان معلومات سے مستقبل میں پیٹ اور انہضام کے عمل میں امراض کے علاج کو  سمجھنے میں آسانی ہوگی اور آنتوں کے کسی حصہ کو معدے کے بیرونی حصے سے ملحق رکھنے والی جھلی کو بےربط ڈھانچہ مانا جاتا رہا ہے،

تاہم پروفیسر جے کیلون کوفی کی تحقیق  میں یہ کہا گیا ہے یہ بےربط نہیں بلکہ ایک مسلسل ڈھانچہ ہے۔رپورٹس کے مطابق پروفیسر نے اس عضو کے موجود ہونے کے کئی شوائد بھی پیش کیےہیں

پروفیسر جے کیلون کوفی کے مطابق ‘اس جھلی جیسی نظر آنے والی چیز کو ہم نے کبھی جسم کا عضو نہیں مانا، اور اس کے بارے میں زیادہ معلومات سے ناگوار سرجریز اور مشکلات سے بچنے کے مواقع حاصل ہوں گے’۔

انسنای جسم کے ہر حصے کی طرح اس عضو کو سمجھ کر پیٹ کی بیماریوں کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔

بشکریہ دی مرر

loading...
loading...