سمندر میں حد سےزیادہ پلاسٹک  کی موجودگی انتہائی تشویش ناک ہے

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سمندر میں اب تک تقریباً 165 ملین ٹن  پلاسٹک پھینکا  جا چکا ہے  جس کا وزن احرام مصر سے بھی 25گنازیادہ ہے۔

 ایلین  ماک آرتھر فاؤنڈیشن   کا کہنا ہے کہ  2050 تک سمندر میں   پلاسٹک کی اتنی بڑی تعداد  کا وزن مچھلیوں کے وزن سے بھی زیادہ ہوگا  ۔

 پلاسٹک کا استعمال  روز بروز بڑھتا جا رہا ہے گزشتہ 50 سالوں میں پلاسٹک کے استعمال میں  20 گنا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ سے  اس بات کا اندازہ  بخوبی لگایا جا سکتا   ہے   کہ روزانہ   ایک منٹ میں کس قدر کچرا سمندر میں پھینکا جاتا ہے   ۔

اب تک سالانہ 80 بلین ڈالر  زکا نیا پلاسٹک تیار  کیا جاتا ہے جبکہ ضا ئع  کیے جانے والے پلاسٹک   سے ایک اچھا کاروبار بھی کیا جاسکتا ہے۔

تاہم   کچرے کی بڑی تعداد   کو سمندر میں پھینکنے سے روکا بھی جا سکتا ہے۔ ضائع کیا جانے والا پلاسٹک دیگر  مقاصد میں  دوبارہ  بھی  استعمال کیا جا سکتا ہے۔   جبکہ اگر اس کو زمین میں دفن کر دیا جائے تو سمندر کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

 روپورٹ میں بتایا گیا ہے  کہ اگر ہم  اس پلاسٹک سے ہی پلاسٹک کی دیگر اشیاء بنائیں تو روز کی بنیاد پر  سمندر کے اندر تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی پلاسٹک کی تعداد میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

بشکریہ ٹیک انسائڈر

.

loading...
loading...