سام سنگ کے منافع میں 30فیصد کمی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سنگ نے جب سے اپنے سمارٹ فون نوٹ 7 کو بیٹری کی خرابی کے سبب واپس لینے اور اس کی پروڈکشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے تب سے اس کے منافع میں کافی کمی درج کی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق گذشتہ برس کے مقابلے اس برس جولائی سے ستمبر تک تین ماہ میں کمپنی کے منافع میں 30 فیصد تک کی کمی آ چکی ہے۔ اس مدت میں یہ منافع 6۔4 ارب ڈالر رہا جو کہ گذشتہ دو برس کے دوران سب سے کم ہے۔

سام سنگ نے اپنے فون نوٹ 7 کی بیٹری میں خرابی کے سبب گذشتہ ماہ فون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی جگہ متبادل فون پیش کیا۔ تاہم اس میں بھی وہی خامی پائی گئی جس کے بعد فون کی پروڈکشن کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گيا۔

سام سنگ کے اگلے فون گلیکسی 8 کی لانچ میں ابھی تاخیر ہے اور اگلے برس سے قبل اس کے آنے کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔

ایچ ایم سی انویسٹمنٹ سیکیورٹی سے وابستہ تجزیہ کار گریگ رو کا کہنا ہے کہ ‘سام سنگ نے صارفین کا اعتماد کھو دیا ہے، لیکن میرے خیال سے ان کے پاس اب بھی ایک موقع ہے۔ اگلی پروڈکٹ لانچ کرنے میں جلد بازی کرنے کے بجائے انہیں نوٹ 7 سے متعلق ہر پہلو کی تفتیش کرنی چاہیئے اور تفتیش کے نتائج کی وضاحت بھی کرنی چاہیئے۔’

اے بی آئی ریسرچ سے وابستہ جیک سانڈرز کا کہنا ہے کہ کمپنی نے منافع سے متعلق جو نئے ضوابط وضع کیے تھے نتائج تقریباً اسی کے مطابق ہیں تاہم نوٹ 7 کی ناکامی کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘یہ کافی تکلیف دہ ہے، نوٹ7 کے تقریباً ڈیڑھ سے پونے دو کروڑ تک فون فروخت ہونے کی توقع تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو پایا۔ اوراس سے اچانک اسمارٹ فون بنانے والی دوسری کمپنیوں کو میدان میں آنے کا موقع مل گيا ہے۔’

یہ مشکل ایک ایسے وقت پیش آئی جب اچھے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے فونز کی فروخت میں کمی کا رجحان ہے۔

اس دوران کمپنی کے شراکت داروں نے سام سنگ کے ممکنہ وارث لی جیوانگ کی بورڈ میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔

وہ کمپنی کے بانی لی بائونگ چول کے پوتے اور سام سنگ کے چیئرمین لی کن ہی کے بیٹے ہیں۔

بورڈ میں ان کی تقرری کو اسی نظر دیکھا جا رہا ہے کہ کمپنی کی ذمہ داریاں بتدریج نئی نسل کو منتقل کی جا رہی ہیں اور مستقبل میں وہی اس کے سربراہ ہوں گے۔

لیکن بعض لوگوں نے بورڈ میں ان کی شمولیت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ انہیں یہ عہدہ محض اس لیے دیا گيا ہے کیونکہ وہ خاندان کے فرد ہیں اور یہ فیصلہ صلاحیت کی بنیاد پر نہیں کیا گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

loading...
loading...