پلاسٹک سے پیٹرول بناکر آدھی قیمت پر فروخت کرنے والا دیسی پروفیسر

Petrol-drops-besta

ایسے میں جب پوری دنیا میں تیل کیلئے جنگ و جدل کا ماحول ہے اور تیل کی تلاش میں دن رات ایک کئے جارہے ہیں، بھارت میں ایک پروفیسر نے پلاسٹک سے پیٹرول تیار کرنے کا طریقہ ایجاد کرلیا ہے اور اس طریقے سے پیٹرول بنا کر لوگوں کو فروخت بھی کررہا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس پروفیسر کا نام ستیش کمار ہے جو حیدرآباد کا رہائشی ہے اور مکینیکل انجینئرنگ پڑھاتا ہے۔ وہ پرانے پلاسٹک کو استعمال کرکے آدھی قیمت پر پیٹرول بنا رہا ہے اور 40 روپے فی لیٹر میں لوگوں کو فروخت کررہا ہے۔

Image result for Petrol from plastic

پروفیسر ستیش کمار کا کہنا ہے کہ اس نے ‘پلاسٹک پائرولیسس’ نامی تھری اسٹیپ پراسیس کا استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک سے پیٹرول تیار کیا ہے۔ اس پراسیس کے ذریعے پلاسٹک کو ری سائیکل کرکے اس سے ڈیزل، ایوی ایشن فیول اور پیٹرول بنایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے ایسا پلاسٹک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ری سائیکل نہیں ہو سکتا۔ 500 کلوگرام نان ری سائیکل ایبل پلاسٹک سے 400 لیٹر فیول بنایا جا سکتا ہے۔

Image result for Petrol from plastic

ستیش کمار کے مطابق یہ ایک سادہ سا طریقہ ہے جس میں پانی استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہی اس طریقے کے دوران پانی خارج ہوتا ہے۔ اس سے فضاءبھی آلودہ نہیں ہوتی کیونکہ یہ طریقہ ویکیوم  (Vacuum)میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ وہ روزانہ 200 لیٹر پیٹرول بنا رہا ہے جسے وہ مقامی انڈسٹری کو فروخت کررہا ہے۔ یہ پیٹرول بنانے اور فروخت کرنے کیلئے اس نے ایک کمپنی بھی رجسٹرڈ کروا لی ہے۔

loading...
loading...