سائنس دان کو ملنے والا ہٹلر کا پراسرار کیوب

Untitled-1

یونیورسٹی آف میری لینڈ کے محقق ٹموتھی کویتھ کو 2013ء کی صبح ایک پارسل موصول ہوا، جسے دیکھ کر اُن کی حیرت کی انتہا نہ رہی، انہوں نے دیکھا کہ اس پارسل میں 1940 کی دہائی میں ہٹلر کے ایٹمی ری ایکٹر بنانے کی ناکام اسکیم میں استعمال ہونے والا یورینیم کیوب ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق  ٹموتھی کو کیوب کے ساتھ ایک نوٹ بھی ملا تھا، جس میں لکھا تھا کہ اسے جرمنی سے حاصل کیا گیا ہے، یہ اس ایٹمی ری ایکٹر کا ہے، جسے ہٹلر نے بنانے کی کوشش کی تھی۔ نیننگر کا تحفہ۔

ٹموتھی اسے دیکھ کر حیران اور خوش ہوئے۔ ٹموتھی کا ایٹمی  ہتھیاروں یا ایٹمی مواد سے متعلق یادگاری اشیا کو جمع کرنے شوق ہے۔ انہوں  نے خود سے یورینیم کے ہٹلر کے ایٹمی ری ایکٹر سے  تعلق ہونے کی تصدیق کرنے فیصلہ کیا۔

Hundreds of radioactive cubes (like the one pictured) that once sat at the heart of a failed nuclear reactor built in secret by Nazi scientists are being hunted by US researchers

ٹموتھی نے گریجویٹ کی طالبہ میریام ہیبرٹ کے ساتھ مل کر یورینیم کیوب کی تصدیق کا فیصلہ کیا۔ اُن کی تحقیق کے حیران کُن نتائج سامنے آئے۔

تحقیق سے  پتا چلا کہ جنگ کے دوران جرمنی ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کر سکتا تھا۔ لیکن اس کیلئے کام کرنے والی مختلف ٹیموں میں جاری مقابلہ بازی کی وجہ سے کامیابی  مشکل ہوگئی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے آخری مرحلے میں نازی سائنس دانوں نے برلن میں ایٹمی ری ایکٹر B-VIII تعمیر کرنے کی کوشش کی۔  اس ایٹمی ری ایکٹر کے مرکز میں ٹموتھی کو ملنے والے  یورینیم کیوب کی طرح کے 664 کیوبس رکھے گئے۔

اس کے گرد دھات اور گریفائٹ کے شیل تھے۔ یہ شیل بھی کنکریٹ کے پانی کے ٹینکروں کے بیچ میں رکھے تھے۔ اگر اس ایٹمی ری ایکٹر میں بھاری پانی ملتا تو یہ پانی ریگولیٹر کا کام کرتے ہوئے ایٹمی تعامل کرتا۔ لیکن یہ پروجیکٹ یورینیم کی کمی کی وجہ سے روکنا پڑا۔

Among the German scientists who worked on the reactor was Werner Heisenberg (pictured, in 1930). A theoretical physicist, Werner is credited with the creation of the field of quantum mechanics and was ultimately captured by Allied forces in 1945

-German Scientist Werner Heisenberg

جرمن سائنس دان ورنر ہیسنگبرگ، جو نظریاتی  طبعیات دان ہیں اور انہوں نے کوانٹم مکینکس کے شعبے میں بھی کافی کام کیا ہے کو 1945 میں اتحادی افواج نے گرفتار کرلیا۔ اس ایٹمی ری ایکٹر یا جو انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا تھا کو امریکی فوجیوں نے تباہ کر دیا۔ یہاں سے ملنے والے یورنیم کے 664 کیوبس امریکا میں نامعلوم مقامات پر بھجوا دئیے گئے۔

سائنس نیوز کے مطابق محققین نے کالج پارک کے نیشنل آرکائیو میں موجود کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ  یورنیم کی 400 کیوبس ابھی بھی مختلف جرمن گروپس کےپاس تھے۔ یہ اتنا یورینیم تھا، جس سے جرمنی ایک ری ایکٹر بنا سکتا تھا۔ جنگ کے بعد یہ  یورینیم چور بازار میں فروخت کردیا گیا اور ان کے مقام کی معلوم بھی گم ہوتی گئیں۔

جہاں تک ٹموتھی کو ملنے والے کیوب کے ساتھ نوٹ میں لکھے نیننگر کی بات ہے تو یہ روبرٹ نیننگر ہوسکتے ہیں۔ وہ امریکا کیلئے پہلا ایٹم بم بنانے والے مین ہٹن پروجیکٹ کا حصہ تھے۔ اُن کی بیوہ نےبتایا کہ مرحوم کے پاس یورینیم کا ٹکڑا تھا جوکسی دوست کو دے دیا گیاتھا۔

loading...
loading...