دنیا بھر کےگوگل ملازمین کی بغاوت؟

فائل فوٹو

فائل فوٹو

گوگل کمپنی میں خواتین ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف دنیا بھر میں گوگل  ملازمین واک آؤٹ اور احتجاج کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق، گوگل ملازمین  کمپنی کی جانب سے خواتین کے خلاف ہراسگی کے الزمات پر سنجیدہ ایکشن لینے اور اس حوالے سے مخصوص سیل قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی نے عملے سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے ان  مطالبات کی حمایت کی ہے۔

سندر نے گوگل ملازمین کو ایک ای-میل میں کہا کہ وہ ان کے غصے اور ناامیدی کو سمجھ سکتے ہیں۔”میرے احساسات بھی آپ جیسے ہی ہیں اور میں اس اہم مسئلے پر پیش رفت میں سنجیدہ ہوں “۔

یاد رہے کہ گوگل میں احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے نیو یارک ٹائمز اخبار نے جنسی ہراسگی کے الزامات کا سامنے کرنے والے اعلی سطحی افسر  اینڈی روبن کو کمپنی چھوڑنے پر  نو لاکھ ڈالرز ادا کرنے کی خبر  شائع کی تھی۔

انڈروائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ‘خالق’ سمجھے جانےو الے رابن نے جنسی ہراسگی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

منگل کو گوگل کے ریسرچ لیبارٹری ‘ایکس’ کے ایک اور اعلی سطحی افسر رچرڈ  ڈی وال نے بھی کمپنی کو خیر آباد کہہ دیا۔

رچرڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ملازمت کیلئے انٹرویو دینے والی ایک خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

سندر پچائی نے اپنی ای –میل میں عملے کو بتایا کہ جنسی ہراسگی پر اب تک کم از کم 48 ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے اور انہیں نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ پڑھ کر تکلیف پہنچی۔

 

loading...
loading...