بھارت میں قتل وغارت کیخلاف واٹس ایپ کا ایک اور اہم اقدام

aWhatsapp-768-1

واٹس ایپ نے بھارت میں غلط خبروں کی تشہیر کے خلاف اقدام کرتے ہوئے گریونس آفیسر تعینات کردیا۔

ذرائع کے مطابق امریکا کی مقامی کومل لاہیری صارفین، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سرکاری حکام کے متعلق  شکایات کو دیکھا کریں گی۔

تاہم واٹس ایپ نے اس تعیناتی کے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

کومل کے لِنکڈ اِن اکاؤنٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واٹس ایپ کمپنی میں سینئر ڈائریکٹر، گلوبل کسٹمر آپریشنز اینڈ لوکلائزیشن کے عہدے پر فائض ہیں۔

اس سے قبل انہوں نے تین برس فیس بک اور انسٹاگرام میں گزارے ہیں۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس کے ہر ماہ فعال صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب  سے زیادہ ہے۔ اس حساب سے بھارت  ان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جس میں صارفین کی تعداد تقریباً 20 کروڑ ہے۔

تمام تر مثبت پہلوؤں کے باوجود واٹس ایپ کے سبب کئی خطرناک واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ جس میں وہ پانچ لوگ جو گھومنے کسی گاؤں گئے تھے، کا قتل شامل ہے۔ یہ واقعہ واٹس ایپ پر ان کے خلاف ان کے اغواکار ہونے کی جھوٹی خبر پھیلنے سبب پیش آیا۔

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو ایک اشتہار کے زریعے آگہی بھی فراہم کی لیکن بھارتی حکومت نے واٹس ایپ پر مزید اقدامات کرنے پر زور دیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ اِنکرپشن ہونے کی وجہ سے میسجز کا سُراغ نہیں لگایا جاسکتا۔

واٹس ایپ نے انڈیا کیلئے دو فیچرز کا اضافہ کردیا ہے۔ ایک یہ کہ جو میسج فارورڈ ہوا ہے اس کا پتہ لگے گا۔ دوسرا یہ کہ ایک حد سے زیادہ کسی میسج کو فارورڈ نہیں کیا جاسکتا۔

Techcrunch بشکریہ

loading...
loading...