مہنگا ترین ٹِشو پیپر

tissue

نزلہ اور زکام کے موسم میں زرا سا غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ ہم اپنی ناک دراصل جنگلات سے صاف کرتے ہیں۔ درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔

جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں۔

ٹشو پیپر کےماحولیات پر اثرات

صرف امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا(ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں)۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں 11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔

درختوں پر اثرات: ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا ری سائیکل گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں  بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

مینوفیکچرنگ:  ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے، اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔

ٹرانسپورٹیشن: خام مال سے لے کر ٹِشو پیپر تک سب ایسی گاڑیوں پر فیکٹری سے لائے اور لےجائے جاتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتی ہیں۔ کبھی یہ ملک بھر میں سفر کرتے ہیں بعض اوقات یہ سمندر پار بھی بھیجے جاتے ہیں۔

نیچے دی گئی ویڈیو آُپ کو بتائے گی کہ ایک ٹشوپیپر جِسے آپ کچھ سینکنڈز استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں، کیسےبنایا جاتا ہے۔

Green Grounds Well بشکریہ

loading...
loading...