ڈاکٹر کی ٹیڑھی میڑھی تحریر کے مریض پر منفی اثرات

Untitled-2

لندن: ماہرین کے مطابق  ڈاکٹروں کی ٹیڑھی میڑھی تحریر مریضوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ لیکن اگر تحریر سادہ، صاف اور واضح ہو تو مریضوں کیلئے مفید اور آسان ثابت ہوتی ہے۔

اکیڈمی آف میڈیکل رائل کالجز کے مطابق بیماری سے بوجھل ذہن اور جسم کسی دوسری پریشانی کو اُٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ کمزور اور  بیماری سے اکتائے ہوئے مریض دوا سے زیادہ توجہ اور اپنائیت کے طلب گار ہوتے ہیں۔

عمومی مشاہدے کے مطابق مریض ڈاکٹری نسخے کو دیکھ کر مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔

ٹیڑھے میڑھے  (اٹالک فونٹ) یا نقش و نگار سے مزین نسخے کو پڑھنے اور سمجھنے کیلئے کیمسٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹری نسخے میں دوا کی خوراک اور مقدار کو بھی اطالوی زبان یا پھر خراب لکھاوٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔

یعنی دن میں ایک بار کھانے والی دوا کے آگے OD، دو بار کھانے والی خوراک کو BD اور تین بار کھانے والی دوا کے آگے TDS لکھا جاتا ہے۔ جب کہ صرف درد یا ضرورت پڑنے پر لینے والی دوا کے آگے SOS لکھ دیا جاتا ہے۔

اس الجھن کو دور کرنے کیلئے بار بار کیمسٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ معمولی کھانسی اور نزلے کی علامات کو مریض کی ہسٹری میں الٹی سیدھی لکیروں سے بیان کیا جاتا ہے، جس سے اچھا خاصا مریض بھی خود کو کسی موذی مرض میں مبتلا سمجھنے لگتا ہے۔

بی بی سی میں شائع اس تحقیق کے مطابق تحریروں کا انسانی ذہن پر مثبت اور حوصلہ مند اثر ہوتا ہے۔ خوبصورت اور دلکش تحریر ذہن کو سکون بخشتی ہے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھاتی ہے، جبکہ بدنما تحریر خوف اور پست حوصلے کی وجہ بنتی ہے۔ خوشنما تحریر طاقت ہے اور ذہن کو متحرک کرتی ہے۔

یہی وجوہات ہیں کہ اکیڈمی آف میڈیکل رائل کالجز کے ماہرین نے ڈاکٹرز کو دوا تجویز کرتے ہوئے اور مرض کی ہسٹری لینے کے دوران تحریر کو سادہ اور آسان رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے نا صرف مریضوں کو سمجھنے میں آسان رہے گی بلکہ مریضوں پر اس کے خوشگوار اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سادہ اور خوشنما تحریر سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مریض کو دوا کی خوراک لینے میں غلطی کا احتمال نہیں رہے گا، جبکہ مریض اپنے مرض سے متعلق ہسٹری سے بھی بغیر کسی مدد کے آگاہ رہے گا اور اس عمل سے مرض سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

loading...
loading...