نیوکلیئرفضلا کے توجہ طلب مسئلے کا مستقل حل کیا ہوگا؟

fuzl

نیوکلیئر انرجی  دنیا میں میسر سب سے صاف، مؤثر اور آسانی سے دستیاب ہونےوالی انرجی ہے۔

ایک کلوواٹ  آور انرجی کو پیدا کرنے کی صورت میں صرف 12گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو دو لیٹر والی تین سوڈا کی بوتلوں کو بھرنے کیلئے کافی ہے۔

جبکہ اسی مقدار میں اگر کوئلے سے بجلی پیداکی جائے تو اس سے820گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کااخراج ہوتا ہے جو ایک بھرے ہوئے باتھ ٹب کے برابر ہے۔

ماحولیاتی اعتبار سے اگر دیکھا جائے توہائیڈرو پاور، جیو تھرمل، سولراور انرجی پیداکرنے والے کسی بھی زریعے سوائے وِنڈ انرجی کے،نیوکلیئر انرجی زیادہ صاف ستھری ہے۔

لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ نیوکلیئر انرجی دنیا کے مسائل کا دیر پا حل ہے کیونکہ نیوکلیئر مواد شاید دنیا میں موجود سب سے زہریلا مواد ہے۔

تاریخ میں دو بار نیوکلیئر پاورپلانٹس سے تابکار مواد لیک ہوا ہے۔ ایک بار 1986میں چرنوبِل ،یوکرین میں جبکہ دوسری بار2011 میں فوکویاما، جاپان میں۔

چرنوبِل میں ہونےو الے حادثے میں 31لوگ جان سے گئے جبکہ 4000کے قریب لوگوں کو تابکاری کے باعث جان لیوا کینسر لاحق ہونے کے خطرات لاحق ہوگئے۔

جبکہ فوکوشیما میں صرف دو اموات ہوئیں جن کا تعلق تابکاری سے نہیں تھا اور مستقبل میں صرف 131افراد کی  کینسر کے سبب اموات کا امکان ہے۔

لیکن دونوں جگہوں پر موجود تابکاری کی وجہ سے انسان وہاں نہیں رہ سکتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں لوگوں ان جگہوں سے منتقل کیا گیا، جنہیں واپسی کی اجازت نہیں۔

نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال کیے جانے والے یورینیم کی ترسیل بےحد نہیں ہے۔حالیہ یورینیم نکالنے کے طریقے کے اعتبار سے صرف 230برس تک کی یورینیم سپلائی باقی رہ گئی ہے۔

اکثر کا یہ کہنا ہے کہ  نیوکلیئر انرجی  کاربن کے اخراج کو کم کرنے کیلئے قلیل مدتی حل تب تک ہے جب صحیح پائیدار انرجی عام نہ ہوجائے۔

نیوکلیئر انرجی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا فضلا ہے۔

تمام قسم کےکمرشل  نیوکلیئر پاور پلانٹس میں نیوکلیئر فیژن کا عمل ہوتا ہے۔ جب تابکار عنصر ٹوٹتاہے تو انفرادی ایٹمز دوحصے میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔جب ایسا ہوتا ہے تو ری ایکشن انرجی خارج کرتا ہے۔

دنیا بھر میں نیوکلیئر ری ایکٹرز کے ڈیزائن تو مختلف ہوتے ہیں لیکن عموماً  ان ری ایکٹرز میں   یہ انرجی  پانی میں خارج کی جاتی ہے تاکہ اسے گرم کرسکیں اور اس سے بننے والی بھانپ ٹربائن سے گزاریں جو جینیریٹرز کو چلائے۔

نیوکلیئر عنصر کے طور پر استعمال  کیا جانے والا عنصر یورینیم ہوتا ہے جو تقریباً6سے8برس تک نیوکلیئر ری ایکٹر میں انرجی فراہم کرنے کے بعد مزید کارآمد نہیں رہتا۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ  اس نے انرجی خارج کرنا چھوڑ دی ہوتی ہے۔بلکہ یہ سیکڑوں  اور ہزاروں برسوں تک مہلک انرجی کا اخراج کرتی رہتی ہے۔

پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس مہلک فضلاکاکیا کِیا جائے؟جس کا جواب یہ ہے کہ اس کو ہمیشہ کیلئے کہیں ایسی جگہ رکھا جائے  جہاں یہ مکمل طور پر ساکن ہو۔ لیکن یہ بالکل بھی آسان نہیں کیونکہ دنیا میں ہرجگہ نیوکلیئر فضلا کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔جب تک اس کا کوئی مستقل اسٹوریج نہیں بن جاتا ہرجگہ اِسے وقتی طور پر رکھا جاتا ہے۔

نیوکلیئر فضلا کو زیادہ تر کو پانی میں رکھا جاتا ہے۔پانی  تابکاری کو روکنے میں زبردست کام انجام دیتا اور یہ سستا اور آسان بھی ہے۔

عموماً پانی کے یہ پول نیوکلیئر پلانٹس کے اندرہی  ہوتے ہیں لہٰذا جب استعمال شدہ ایندھن ری ایکٹر سے نکالاجاتا ہے تو سیدھا پانی میں ڈال کر چھوڑدیا جاتا ہے۔

تابکار مواد سے نکلنے والی انرجی پانی کو گرم کرتی  رہتی ہے جبکہ پلانٹس پر موجود کولنگ سسٹم اور پمپس پانی کا درجہ حرارت بوائلنگ پوائنٹ سے کم رکھتےہیں جس کیلئے پلانٹ کو پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر پاور فیل ہوجائے اور بیک اپ جینیریٹربھی  فیل ہوجائیں تو سسٹم پانی کو ٹھنڈا کرنا بند کردےگا اور پانی بھانپ بن کر اڑ جائے گا جس کی صورت میں جو تابکاری پانی نے روکی ہوئی تھی وہ باہر پھیل جائے گی۔

یہ ہی کچھ فوکو شیما میں ہواتھا لیکن صورتحال کو قابو میں کرکے ہزاروں جانوں کو بچالیا گیا۔

ایک بار نیوکلیئر فضلا کو 10سے 20برس تک پانی میں ٹھنڈا کرلیا جائے تو اُسے اسٹیل اور کانکریٹ کے کنٹینر میں بند کردیا جاتا ہے۔یہ تابکاری کو تو روک لیتےہیں لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔کیونکہ یہ زلزلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے،  یہ سیلابوں میں ٹک نہیں سکتے اور یہ انسانوں کے بغیر بےکار ہیں۔

ان کنٹینرز کو سیکیورٹی اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر انسانوں کے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کی تابکاری کا ماحول میں اخراج ہوسکتا ہے۔

تاریخ میں سب سے مضبوط سلطنت رومیوں  کی تصور کی جاتی ہےلیکن وہ ڈھے گئی۔ ایسا ہی کچھ دوسروں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

لہٰذا نیوکلیئر فضلہ کیلئے ایک ایسا حل چاہیئے جو کسی بھی سیاسی سانچے سے زیادہ دیر پا ہو، جو بغیر انسان کی نگرانی کے قائم رہے  اور جو بےشک مستقل ہو۔

ایسا کچھ فن لینڈ کررہا ہے۔ دنیا کا یہ خطہ قدرتی آفات سے بچا رہا ہے۔ یہاں نہ زلزلے آتے ہیں نہ سیلاب آتے ہیں یا قدرتی طور پر ایسا کچھ نہیں ہوتا جو نیوکلیئر فضلاکے اسٹوریج کو نقصان پہنچا سکے۔بالخصوص جب وہ 1500فٹ زیر زمین ہو۔

فنش جزیرے کے نیچے زمین کھود کر دنیا کا پہلا مستقل نیوکلیئر ویسٹ اسٹوریج بنایا جارہا ہے۔

حا ل ہی میں انہوں نے کھودنے کا عمل مکمل کیا ہے اور جلد ہی 2020میں اِسے نیوکلیئر ویسٹ سے بھرنے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

اس میں ایک لمبی سرنگ میں  چھوٹے سوراخ کیے گئے ہیں جن میں نیوکلیئر ویسٹ کےکنٹینر رکھنے جائیں گے اور مٹی سے بھرکر ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا جائے گا۔

اس طریقے سے مواد کے زیرزمین پانی میں مل جانے کے امکانات تقریباً صفر ہوجائیں گے۔

زمین کی اتنی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے اس کو نہ کسی سیکیورٹی کی ضرورت ہوگی نہ کسی انسان کی دیکھ بھال کی۔

اس کو خطرہ صرف انسان کی فطرت سے ہے جواگر اس کو  کئی ہزار سال بعددریافت کرے گا اور عجیب و غریب  چیز کو دیکھے گا تو کھولنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے اہرام مصر  کو مصر کی اشرافیہ کیلئے مستقل آخری آرام گاہ  کے طور پر بنایا گیا تھا لیکن اب اُسے کھول دیا گیاکیونکہ ہم متجسس تھے۔

لہٰذا ہمیں مستقبل کے انسان کیلئے اس چیز کے خطرات کےمتعلق آگاہ کرنے کیلئے پیغام دینا ہوگا جسے پڑھ کر وہ ان جگہوں سے دور رہیں۔

loading...
loading...