کیا آپ جانتے ہیں ‘ٹائم ٹریول’ یعنی وقت میں سفر کرنا کس طرح ممکن ہے؟

Untitled-2

کیا آپ جانتے ہیں ‘ٹائم ٹریول’ یعنی وقت میں سفر کرنا ممکن ہے؟

اکثر ہم ہالی وڈ سائنس فکشن فلموں میں دیکھتے ہیں کہ ٹائم ٹریول کے زریعے لوگ ماضی میں بھی جاسکتے ہیں اور مستقبل میں بھی۔

اب تک ہم یہی سمجھتے تھے کہ وقت میں سفر کرنا صرف قصے کہانیوں تک ہی محدود ہے، لیکن سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ ٹائم ٹریول ممکن ہے اور ہم وقت میں سفر کرسکتے ہیں، لیکن کس طرح؟

آئیے جانتے ہیں ورلڈ سائنس فیسٹیول کے شریک بانی اور کولمبیا یونیورسٹی کے حسابیات اور طبیعات کے پروفیسر برائن گرین سے۔

پروفیسر برائن کے مطابق ٹائم ٹریول دو طرح کے ہوتے ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

پروفیسر کے مطابق ٹائم ٹریول کے زریعے مستقبل میں پہنچنا یقینی طور پر ممکن ہے۔ ہم جانتے ہیں یہ کیسے کرنا ہے کیونکہ آئنسٹائن نے سو سال پہلے ہمیں اس کا طریقہ بتا دیا تھا۔

 حیران کن امر یہ ہے کہ صرف چند لوگ ہی اس بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر آپ خلاء میں جاتے ہیں اور روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور واپس آتے ہیں تو آپ کی گھڑی دنیا کی گھڑی سے سست رفتار سے چل رہی ہوگی۔

یعنی جب آپ دنیا میں واپس قدم رکھیں گے تو آپ مستقبل کی دنیا میں ہوں گے، جبکہ آپ کو وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوگا۔

آئنسٹائن نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اگر آپ بہت زیادہ کشش ثقل والی کسی چیز جیسے کہ نیوٹران اسٹار یا بلیک ہول کے قریب ہوں تو جب آپ اس کے کنارے پر پہنچیں گے تو آپ کیلئے وقت انتہائی سست ہو جائے گا جبکہ باقی چیزوں کیلئے وقت کی رفتار وہی رہے گی۔

Image result for black holes

اس کا مطلاب باقی دنیا آپ سے بہت آگے نکل چکی ہوگی اور آپ پیچھے رہ جائیں گے۔ اس طرح جب آپ واپس آئیں گے تو آپ مستقبل میں قدم رکھیں گے۔

یہ کوئی متنازع چیز نہیں ہے، دنیا کا ہر طبیعات دان اس کو قبول کرتا ہے۔

لیکن اس کے برعکس ٹائم ٹریول کی دوسری قسم یعنی ماضی میں سفر کرنا ایک متنازع پوائنٹ ہے اور یہاں آکر ایک اچھی بحث شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ بہت سے سائنس دانوں کو لگتا ہے کہ ماضی میں سفر کرنا ممکن نہیں ہے۔

وقتِ ماضی میں سفر کرنے کیلئےایک واحد اور قابل قبول تصور جو پیش کیا گیا ہے وہ ورم ہولز کا ہے۔

لیکن ورم ہولز کیا ہیں؟

Image result for wormholes

ورم ہولز بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو البرٹ آئنسٹائن نے ہی دریافت کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ طبیعات کی فیلڈ میں ہر چیز کی دریافت پر انہیں کا نام ہے۔

ورم ہول خلاء میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے استعمال ہونے والا ایک پل ہے۔ یہ ایک سرنگ ہے جو لاکھوں اور کروڑوں میل طویل سفر کیلئے ایک شارٹ کٹ فراہم کرتی ہے۔

البرٹ آئنساٹائن نے اسے 1935 میں دریافت کرلیا تھا۔ لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ اگر آپ ورم ہول کے شروعاتی دہانے میں تبدیلی کردیں یعنی ایک دہانے کو بلیک ہول کے پاس کھولیں یا تیز رفتار سے سفر کروائیں تو اس ورم کے دہانوں پر ہونے والا وقت ایک رفتار سے نہیں چل پائے گا۔

جس کا مطلب ہے کہ آُپ اس ورم ہول کے زریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر نہیں کر پائیں گے، بلکہ آپ ایک وقت سے دوسرے وقت میں پہنچیں گے۔

پروفیسر برائن کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ ورم ہولز حقیقت ہیں بھی یا نہیں۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کیا واقعی اس کے زریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر یہ صحیح ہے تو ورم ہولز کے زریعے ٹائم ٹریول ممکن ہے۔

بشکریہ ٹیک انسائیڈر