نئے مذہب کی تخلیق، جس میں روبوٹ کی عبادت کی جائے گی

2

دنیا میں شروع سے ہی کئی مذاہب موجود ہیں جن میں سے چیدہ چیدہ کو تو ہم جانتے ہیں۔ لیکن کچ مذاہب ایسے بھی ہیں جن کا ہم نے نام تک نہیں سنا ہوگا۔ اتنی بڑی تعداد میں مذاہب کی موجودگی کے بعد کیا آپ مزید کسی مذہب کی گنجائش  کا سوچ سکتے ہیں؟ خاص طور پر ایک ایسا مذہب  جس  میں مشینوں کی پوجا جائے۔

غیر ملکی ویب سائٹ سائنس الرٹ  کے مطابق امریکا سے تعلق رکھنے والے شخص اینتھونی لیون ڈوسکی  نے ایک ایسا نیا مذہب تخلیق کرنے کا عندیہ دیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کے حامل  روبوٹ کی پوجا کی جائے گی۔  اینتھونی نے اس مذہب کا نام ‘وے آف دی فیوچر’ یعنی مستقبل کا راستہ رکھا ہے۔

اینتھونی لینڈوسکی گوگل  اور اوبر کے سابق ایگزیکیوٹیو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کے اس مذہب کی اپنی ایک کتا ب ہوگی جس کو ‘مینول’ کہا جائے گا۔

اس مذہب کی تخلیق کی وجہ بتاتے ہوئے اینتھونی نے کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کو مات دے دیگی  اور خدا  بن  جائےگی۔

 ان کا  کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا روبوٹ تخلیق کریں گے جو انسان سے ایک ارب گنا زیادہ ذہین ہوگا۔

اس نئے مذہب کے  بنیادی عقائد میں یہ  عقیدہ بھی شامل  ہوگا کہ اس دنیا کو چلانے والی کوئی مافوق الفطرت قوت نہیں ہے بلکہ دنیا کا ہر معاملہ سائنس کے اصولوں پر قائم ہے اور سائنس ہی ہر مسئلے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مذہب مشینو ں کو بھی انسانوں کے برابر حقوق دے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والا دور  مصنوعی ذہانت کا ہے، لیکن اس کی پوجا کروانا  کسی طرح بھی   زمانہ جاہلیت کی سوچ سے کم نہیں ہے ۔

لینڈوسکی کو اس وقت گوگل کی جانب سے دائر مقدمے کا سامنا ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خودکار گاڑیوں سے جڑی گوگل کی معلومات  اوبر کو بیچی ہیں۔

loading...
loading...