نئی جگہ پر نیند کیوں نہیں آتی؟ وجہ ڈھونڈ لی گئی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تحقیق سے ثابت ہوا ہے  کہ اجنبی جگہ پر جا کر نیند نہ آنے کی اصل وجہ دماغ کا خطرے سےآگہی کے لیے خبردار رہنا ہے۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب لوگ کسی نئی جگہ جاتے ہیں تو دماغ کا بایاں حصہ کسی خطرے سے آگاہی کیلئے مسلسل خبردار رہتا ہے اور جب لوگ رات میں سوتے ہیں تو دماغ پوری طرح نیند کے اثرات میں نہیں جاپاتا اور ذرا سی آہٹ یا پھر ہلکی سے آواز اسے نیند سے بیدار کردیتی ہے۔

 تحقیق کے دوران لیبارٹری میں رضا کاروں پر کیے گئے تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ  دماغ کا بایاں حصہ آوازوں کے ردِ عمل میں زیادہ متحرک رہا اور سخت نیند آنے کے باوجود انسان اچھی نیند نہیں سو سکتا۔

تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کیفیت بعض سمندری جانوروں اور بعض پرندوں میں بھی پائی جاتی ہےتاہم یہ صورتحال نئی جگہ پر گزاری ہوئی پہلی رات میں ہی ہوتی ہے، جس کے بعد جیسے جیسے جسم نئی جگہ سے واقفیت حاصل کرنے لگتا ہے، اور یہ کیفیت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

 براؤن یونیورسٹی کی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ لوگ رات کو خبردار رہنے والی اس کیفیت کو بند کرکے سونے کا طریقہ سیکھ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انسانی دماغ بہت لچک دار ہے اس لیے وہ جلد نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہے۔

اس لیے جو لوگ اکثر نئی جگہوں پر جاتے ہیں ان میں نیند ٹوٹنے کا یہ مسئلہ باقاعدگی سے نہیں ہوتا اوروہ جلد اس پر قابو پالیتے ہیں۔

بشکریہ  theatlantic     

loading...
loading...