مختلف زبانوں سے واقف بچوں میں پائی جانے والی انوکھی خاصیت

Untitled-2

دنیا میں ایک زبان بولنے والوں کی شرح تینتالیس فیصد ہے اور جب دو زبانیں بولنے کی بات آتی ہے تو پاکستانی شہری کی اردو زبان سے واقفیت اس کی یہ صلاحیت بہت نمایاں بنا دیتی ہے۔

پاکستان میں مختلف قومیت کے آبادہونے سے پاکستانی دو یا اس سے زیادہ زبانیں بولنا جانتے ہیں۔اور اس کا فائدہ سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکا ہے ۔لیکن جہاں انگریزی کو عالمی زبان مانا جاتا ہے، ملک میں مادری زبان کی مقبولیت میں کمی آتی جارہی ہے۔

عمومی طور پر لوگ اپنے بچوں کو انگریزی زبان سکھانے پر زور دیتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ بچوں کی ذہنی نشونما پر دو سے زیادہ زبانیں جاننے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

وہ بچے جو اپنی مادری زبان کے علاوہ بھی دوسری زبانیں جانتے ہیں ان میں ایک سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ بچے قدرتی طور پر زیادہ ایکسپریسو ہوتے ہیں اور بہتر آگاہی رکھتے ہیں۔ مختلف قسم کی زبانیں انہیں اسباق کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور اسکا خلاصہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بچے حالات اور دوسروں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بچے تخلیقی صلاحیت کے بھی حامل ہوتے ہیں اور ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کو زیادہ دیر تک روک سکتے ہیں۔

امریکا میں رہنے والے پاکستانی اپنے بچوں کو انگریزی زبان کے علاوہ اپنی مادری زبان بھی نہیں سکھانا چاہتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی زبان کی بول چال میں لہجہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ سماجی امتیاز کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ والدین ایسا کرتے ہیں۔ حالانکہ سماجی مشکلات ہونے کے باوجود ایک یا دو سے زیادہ زبانوں سے واقفیت انسان کے لیئے استحقاق ہے۔

بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بچوں پر ضرورت سے زیادہ سیکھنے کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ ڈاکٹرز کے خیال میں بچے ہماری سوچ سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں۔ ان میں سیکھنے کی صلاحیت بہت تیز ہوتی ہے۔ جتنی چھوٹی عمر سے سیکھنا شروع کرتے ہیں اتنا جلدی اور موئثر طریقے سے سیکھتے ہیں۔ 

loading...
loading...