لال بیگ کے دماغ میں حیرت انگیز چیز کا انکشاف

-The New Yorker

-The New Yorker

لال بیگ کا شمار کرہ ارض کے قدیم جانداروں میں ہوتا ہے جس کی افزائش نسل گندگی اور کچرے میں تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔ بعض محققین کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ایٹمی حملے کے بعد بھی اگر کوئی جاندار بچ سکتا ہے تو وہ لال بیگ ہے۔

ان خوبیوں کی وجہ یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے سائمن لی اپنی تحقیق کیلئے لال بیگ کا ہی انتخاب کیا۔  لندن کی لیبارٹری میں لالبیگ کے جسم کے تمام حصوں اور خون کو الگ کر کے ان کا مشاہدہ کیا گیا اور بالاخر سائمن لی کی ٹیم یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ لال بیگ کے دماغ میں موجود کیمیکل میں جان لیوا جرثوموں اور وائرس کو ہلاک کرنے صلاحیت موجود ہے۔

سائمن لی کا کہنا ہے کہ کاکروچ کے دماغ سے انھیں 9 اینٹی بیکٹریل مالیکول ملے ہیں جن کی وہ اب شناخت کر رہے ہیں تا کہ مستقبل میں ان کا کیمیائی تجزیہ کرسکیں اور جب کیمیکل کی شناخت ہوجائیگی تو اس کو تیار کرکے مارکیٹ میں مہیا کیا جاسکے گا۔

امریکی نسل کے لال بیگوں کی افزائش صاف ستھرے ماحول میں کی جاتی ہے اور اسے 30 روزہ تجربے کیلئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ سائمن لی کآ کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ غیر صحت مند ماحول میں پائے جانے والے لال بیگ میں اس سے زیادہ اینٹی بیکٹیرئل کیمیکل ہوں۔

لال بیگ کے دماغ سے ملنے والے مالیکیول انسانی جسم میں انفیکشن پیدا کرنے والے ’’ ایم آر ایس اے ‘‘ اور ’’ ای کولائی‘‘ بیکٹریا کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔  مالیکیول کی شناخت اور کیمیکل کی تیاری کے بعد اس کو جانوروں اور بعد میں کسی رضاکار پر آزمایا جائے گا اور اس پورے مرحلے میں ابھی کم سے کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔

بشکریہ نیشنل جیوگرافک