غربت اور مفلسی ذہانت میں کمی کا باعث بنتی ہے: تحقیق

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایک امریکی ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ غربت یا مفلسی کی حالت میں انسانی ذہانت کے پیمانے (آئی کیو لیول) میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

سماجی و حیاتیاتی ریسرچرز نے اپنی تازہ تحقیق میں بتایا کہ امریکی ریاست نیو جرسی کے فیشن ایبل شاپنگ مال سے لے کر بھارتی کھیتوں میں کام کرنے والے دہقانوں تک، مفلسی انسانوں کے پیمانہ ذہانت میں واضح کمی پیدا کر دیتی ہے۔ محققین کے خیال میں برین پاور میں پیدا ہونے والی یہ کمی 13 درجے تک ممکن ہے۔ اس ریسرچ سے حاصل ہونے والے نتائج کو ریسرچرز نے معتبر سائنسی جریدے سائنس میں شائع کیا ہے۔

اس سائنسی ریسرچ کے دائرے میں انسانی معاشرت کے سماجی پہلو بھی آتے ہیں اور اعداد و شمار اور مختلف تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ مفلسی کی وجہ سے انسانی ذہن کا کام اور مشقت میں ضیاع ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ غربت اور مالی ناآسودگی کی وجہ سے کوئی بھی مفلس و نادار کسی ایک چیز پر پور ارتکاز کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اُسے معاملات و مسائل کو حل کرنے میں بھی اندرونی بےچینی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے جذبات اور احساسات کے کنٹرول میں بھی دشواری محسوس کرتا ہے۔

معتبر امریکی درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں مرتب کی جانے والی اس ریسرچ کے شریک مصنف سندھیل ملائےناتھن کا کہنا ہے کہ جب بے شمار پریشانیاں اور بے چینیاں دماغ کے اندر ہوں تو پھر ذہن کچھ اور کرنے کے بجائے انہی پر مرکوز رہتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق صرف غربت ہی ذہن کیلئے مشکلات کا باعث نہیں بنتی بلکہ آسودگی میں مفلس کی سی حالت کو طاری کرنے کے بھی منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ ریسرچرز کے مطابق ایسی سوچ رکھنے والے کی ذہانت میں کمی کے علاوہ نیند بھی کم ہو جاتی ہے۔

مفلسی کے انسانی ذہانت پر مرتب ہونے والے اثرات کی ریسرچ کو ہارورڈ یونیورسٹی اور کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے محققین نے حتمی شکل دی ہے۔ سندھیل ملائے ناتھن کے ہمراہ جیا ینگ ژاؤ دوسرے مصنف ہیں۔ جیا ینگ کے مطابق مفلسی میں شعوری کیفیت کو انسانی ذہن میں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے اور اس باعث وہ بہتر فیصلے کرنے میں دشواری کا سامنا کرتا ہے۔ اس ذہنی پیچیدگی سے اس کی مفلسی میں اضافے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس ریسرچ کے لیے 400 افراد کے انٹرویوز پر مشتمل ڈیٹا مرتب کیا گیا۔ ان افراد کی سالانہ آمدن 20 ہزار ڈالر سے لے کر 70 ہزار ڈالر تک تھی۔

محققین نے مختلف سطح کیلئے نظریاتی سوالات کو پیش کر کے مختلف افراد سے پوچھا کہ وہ کم آمدنی کے دوران کسی بھی مشکل حالت یا حادثے کی صورت میں کیا کریں گے۔ کم آمدنی والے حضرات کو جواب دینے میں لمحاتی دقت کا سامنا رہا۔ جن افراد کے انٹرویو کیے گئے، ان کو مختلف کیفیتوں اور مسائل کو اپنے مالی حالات کے تناظر میں جواب دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان میں سے کم آمدنی والے حضرات کے جوابات صورت حال کو مزید خراب کرنے کے مساوی تھے۔

اسی طرح بھارت میں گنے کی کاشت کرنے والے 464 کسانوں کو بھی اس ٹیسٹ میں شامل کیا گیا۔ ان کے ٹیسٹ گنے کی فصل کی کٹائی سے قبل، جب انہیں مالی مشکلات کا سامنا تھا، اور پھر کٹائی کے بعد لیے گئے۔ دونوں صورتوں میں جوابات مختلف تھے جو ان کے دماغ پر دباؤ کی عکاسی کرتے تھے۔ ریسرچرز کے بقول مالی آسودگی کے وقت پیمانہٴ ذہانت بڑھنے کے علاوہ فیصلہ کرنے میں آسانی ریکارڈ کی گئی اور مالی مسائل کا سامنا کرنے والے حضرات میں فیصلے میں تاخیر اور ذہنی حالت میں گراوٹ محسوس کی گئی۔

بشکریہ  princeton.edu