سوارم بوٹ، روسی دفاع میں اہم اضافہ

-Dailymail

-Dailymail

امریکا اور روس کے درمیان ہمیشہ ایک مقابلہرہا ہے ۔دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ سپر پاور کا اعزاز ان  میں سے کسی ایک پاس موجود ہو اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں ممالک انتہائی تیزی کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں دیگر ممالک کے مقابلے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کے منازل طے کر رہے ہیں ۔  

تحقیق ، سائنسی ٹیکنالوجی یا پھر دفاعی  اعتبار سے سازو سامان کی تیاری، دونوں ممالک کی یہی کوشش رہتی ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک ایجاد کی جائے تاکہ  ہر اعتبار سے ایک دوسرے سے آگے نکل سکیں ۔  یہی سلسلہ ابھی بھی بدستور  تیزی کے ساتھ جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کل دونوں ممالک میں جنگی صورت حال سے نمٹنے کیلئے نئے سوارم بوٹ بنانے کا مقابلہ چل رہا ہے ۔ 

ہم آپ کو آج  ان کے ایک دوسرے کے مد مقابل بنائے گئے سوارم بوٹ کے متعلق معلومات  فراہم کرتے ہیں ۔

روس میں اس وقت 30 سے زائد کمپنیاں دفاعی سازو سامان تیار کر رہی ہیں ۔روس  نے سوارم بوٹ تیار کیا ہے جو گرینیڈ کی طرح فضاء میں لانچ کیا جا سکتا ہے۔

یہ ہتھیار 5 سے 3 منٹ کے اندر ڈرون  بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے  ۔

روس نے یورین 6 کے نام سے ایک  ایسا  روبوٹ بھی تیار کیا ہے جو بارودی سرنگوں کا بآسانی صفایا کر سکتا ہے ۔ 

فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد ان کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کیلئے بھی ایک خاص قسم کا روباٹ تیار کیا گیا ہے جس کی نمائش  بھی کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند سالوں کئے دوران جنگ میں ڈرون کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے سبب تیزی کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ  کی صورت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکیں۔

بشکریہ   ڈیلی میل

loading...
loading...