دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے (ICU) انتہائی نگہداشت کا وارڈ

Untitled-2

امریکا کے طبی محققین کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے یا انٹینسیو کیئر یونٹ (ICU) میں کچھ عرصہ داخل رہنے والے مریضوں میں آہستہ آہستہ ذہنی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔

ریسرچرز کے مطابق ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل رہنے والے مریضوں کی ذہنی حالت تیزی سے خراب ہو جاتی ہے۔ اُن کے احساس اور ادراک کی صلاحیتوں پر پڑنے والے منفی اثرات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ ٹرامیٹک برین انجری یا دماغ کو لگنے والی چوٹ کے بعد مریض کے ذہن کو پہنچنے والا نقصان۔

ایسا خاص طور سے دل کا دورہ پڑنے کے بعد زیادہ عرصے تک انتہائی نگہداشت کے شعبے میں بھرتی مریضوں کے ساتھ ہوتا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس بارے میں کی جانے والی تحقیق کی رپورٹ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئی ہے۔

اس مطالعاتی جائزے کے ایک سینیئر مصنف پروفیسر ویس ایلی کہتے ہبں کہ یہ مسئلہ بہت عام ہے۔ اس کیفیت کو Delirium Syndrome کہتے ہیں۔ یہ آئی سی یو یا انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل مریضوں میں سے تین چوتھائی میں پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ایلی کے مطابق ایسے مریضوں کے دماغ کو پہنچنے والا صدمہ اُن کی ایسی ذہنی حالت کا سبب بن جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ایسے مریض کم از کم ایک سال تک ہیجان، بے قراری، جنون، واہمہ یا غلط تصور جو پریشانی کی صورت میں پیدا ہوتا ہے کا شکار رہتے ہیں۔

بشکریہ Reuters