تمام پرندوں کے انڈوں کی شکل مختلف کیوں ہوتی ہے؟

-Audubon

-Audubon

مانیں یا نہ مانیں لیکن کچھ پرندوں کے انڈے ‘انڈوں’ کی شکل سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ ہمنگ برڈ لومبوتری شکل کے انڈے دیتا ہے۔ الّو دنیا کی شکل کے گول انڈے دیتا ہے، جبکہ سینڈ پائپر نامی پرندہ بارش کے قطروں جیسے نوکیلی شکل کے انڈے دیتا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ پرندوں کے انڈوں کی شکل  مختلف کیوں ہوتی ہے؟

یہ وہ راز ہے جس پر سائنسدان برسوں سے بحث کرتے آرہے ہیں، اور شاید اب اس کا جواب مل چکا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں میں سائنسدانوں نے اس متعلق کئی مفروضے پیش کئے۔

٭ جو پرندے پہاڑ کی چوٹیوں کے کنارے پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں وہ نوکیلے یا تکون شکل کے انڈے دیتے ہیں۔ تاکہ اگر انڈے ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو نیچے گرنے کے بجائے اپنی ہی جگہ پر گھوم جائیں۔

٭ ایسے پرندے جن کی خوراک میں کیلشئیم کی کمی ہوتی ہے وہ شاید گول انڈے دیتے ہیں۔ تاکہ چھلکوں کے بننے میں کم جگہ استعمال ہو۔

٭ کچھ انڈے اس شکل کے ہوتے ہیں کہ وہ آسانی سے گھونسلے میں سما سکیں اور برابر سہ سکیں۔

محققین نے ان تمام مفروضوں کو 1400 الگ الگ پرندوں کی اقسام کے 50 ہزار انڈوں کے زریعے جانچا۔ اس کے بعد انہوں نے ان انڈوں کی شکل کے درمیان کنیکشن، غذا، گھونسلے کی جگہ اور ماحول وغیرہ کو دیکھنے کیلئے ایک حسابیاتی ماڈل بنایا۔

جس سے پتا چلا کہ انڈوں کی شکل کا راز پرندوں کے اڑنے کی صلاحیت میں چھپا ہے۔

مضبوط اڑان والے پرندوں کے انڈے گول یا بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ ایسے پرندوں کی جسامت چپٹی ہوتی ہے اور ان کے جسمانی عضو بھنچے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ وہ تیزے سے اور دور تک اڑ سکیں۔ اس وجہ سے ان کے انڈے چپٹے، گول یا بیضوی ہوتے ہیں۔

جو پرندے اڑنے کی صلاحیت میں بہتر ہوتے ہیں ان کی بیضہ نالی پتلی ہوتی ہے۔ اس لئے جب انڈے کی جھلی بنتی ہے تو وہ لمبوتری شکل کے انڈے بناتی ہے۔

ایسے پرندوں کے انڈے حجم کو کم کئے بنا ، کم جگہ گھیرتے ہیں۔

محققین کا ماننا ہے کہ یہ ریسرچ بتانے میں مدد دے گی کہ کس طرح ڈائنوسارز کے دور سے اب تک انڈوں کی شکل میں بدلاؤ آیا ہے اور کس طرح کچھ مخصوص ڈائنوسارز آج کے پرندوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اس کو مزید بہتر سمجھنے کیلئے ذیل میں دی گئی اینی میٹڈ ویڈیو ملاحضہ کیجئے۔

بشکریہ The Verge

loading...
loading...