ایم بی اے ڈگری ہولڈرز کو نوکری نہیں دینی چاہئیے: ایلن مسک

Untitled-2

ایلن مسک کا کہنا ہے ایم بی اے ڈگری ہولڈر کو نوکری نہیں دینی چاہئیے۔

ایلن مسک اسپیس ایکس کمپنی کے مالک ہیں، حال ہی میں ان کی کمپنی نے خلاء میں دنیا کا سب سے بڑا راکٹ لانچ کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی اپنی نجی کار ‘ٹیسلا روڈسٹر’ بھی خلاء میں بھیج دی، جس میں خلائی مخلوق کیلئے کئی پیغامات لکھے گئے ہیں۔

ایلن نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ جتنا ممکن ہو سکے ایم بی ایز کو نوکری نہ دی جائے، ایم بی اے پروگرامز نہیں سکھاتے کہ کمپنی کس طرح بنائی جاتی ہے۔

امریکا میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے اوسطاً 60 ہزار ڈالرز کا خرچ آتا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی تقریباً ایم بی اے کیلئے 3 سے 4 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود 41 فیصد گریجویٹس بے روزگار رہ جاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان میں سے 90 فیصد اپنی ڈگری کے مطابق کام نہیں کرتے۔

Image result for sheryl sandberg facebook

اسی حوالے سے فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈ برگ کا کہنا ہے کہ ‘فیس بک کیلئے ایم بی ایز ضروری نہیں۔  مجھے نہیں لگتا کہ یہ لوگ ٹیک انڈسٹری کیلئے اہمیت رکھتے ہیں’۔

جب فیس بک اور ای بے جیسی بڑی کمپنیاں ایم بی ایز کونوکری پر رکھنے سے گریزاں ہیں، تو ممکن ہے  مستقبل میں ایم بی ایز کی کوئی اوقات نہ رہے اور انہیں بے کار تصور کر لیا جائے۔

ایم بی اے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے اس قیمتی وقت کو انٹرن شپ میں صرف کریں اور اس پیسے کو کسی بزنس آئیڈیا میں لگائیں۔

کسی بڑی اور کامیاب کمپنی میں ایک ایم بی اے ہولڈر کو نوکری ملنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ایم بی اے ہولڈر سے زیادہ تجربہ کار لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

Image result for scott cook ebay

ای بے کے ڈائریکٹر سکاٹ کُک کہتے ہیں ‘جب ایک ایم بی اے ہمارے پاس آتا ہے تو ہے اسے دوبارہ سے تربیت دینی پڑتی ہے، انہوں نے جو پڑھا ہے اس میں سے کچھ بھی انہیں کچھ نیا تخلیق کرنے میں مدد نہیں کرتا’۔

ان سب کامیاب لوگوں کے خیالات اپنی جگہ، لیکن آخر میں اس کا انحصار آپ پر ہے کہ اپنے لئے کونسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے ایم بی اے میں وقت اور پیسہ لگانا سمجھ داری ہے؟َ

بشکریہ Born Realist

loading...
loading...