امریکی فوج ‘میگا مدر شپ’ کے حصول کیلئے کوشاں

-DARPA

-DARPA

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون ہالی وُڈ کی طرز کے ایک سائنس فکشن خیال کو حقیقت کا رُوپ دینے کا خواہاں ہے۔ وہ ایک ایسا مدر شپ‘ بنانا چاہتا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے ہی دیگر چھوٹے طیاروں کو ٹیک آف کرنے کا موقع دے۔

پینٹا گون کے تحقیقی ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ڈی اے آر پی اے) نے اس حوالے سے رواں ماہ متعلقہ صنعت کو ایک درخواست دی ہے جس میں ایک کارگو ہوائی جہاز کی آؤٹ لائن طلب کی گئی ہے۔ اس سے یہ تعین ہو گا کہ پرواز کرتے ہوئے اس جہاز سے ڈرون طیارے کیسے ٹیک آف اور لینڈنگ کریں گے۔ یہ ڈرون طیارے دشمن کی جاسوسی یا اس پر حملوں کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔

قبل ازیں یہ کام بحری بیڑوں سے لیا جاتا ہے جہاں سے طیارے جاسوسی یا حملوں کیلئے اڑتے ہیں اور کام پورا کرنے کے بعد وہیں لوٹ آتے ہیں۔

خبر رسا‌ں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ’مَدر شِپ‘ کے تصور میں ہالی وُڈ کی فلم ‘دی ایوینجرز’ اور ویڈیو گیم ‘اسٹار کرافٹ’ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ تاہم پینٹا گون کا یہ جہاز کسی شے کا سہارا لیے بغیر فضا میں کھڑا ہوگا۔

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال ڈی اے آر پی اے ایسا کوئی تجرباتی طیارہ بنانے کے قریب نہیں ہے اور محض ممکنات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

روبوٹس اور جنگوں کے موضوعات پر لکھنے والے مصنف پیٹر سنگر کا کہنا ہے کہ یہ اس تصور کا انتہائی ابتدائی مرحلہ ہے۔ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی عملی مرحلے تک نہیں پہنچے۔

ڈی اے آر پی اے نے اس کی ایک تصوراتی ڈرائنگ بھی بنائی ہے جس میں یہ طیارہ کسی C-130 کی مانند دکھائی دیتا ہے جس پر سے ڈرون کی مانند دکھائی دینے والے طیارے پرواز کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایجنسی کے اس پروگرام کے مینیجر ڈین پیٹ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ ہم ایسا طریقہ وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت چھوٹے طیارے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، اس حوالے سے ایک بہترین خیال یہ ہے کہ موجودہ بڑے طیارے پر کام کیا جائے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی فوج اس نوعیت کا کوئی جہاز بنانے کا سوچ رہی ہے۔ ایسی کوششیں 1920ء اور 1960ء کی دہائیوں میں بھی کی جا چکی ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں اسٹریٹیجک ٹیکنالوجیز پروگرام کے ڈائریکٹر جیمز لیوس کا کہنا ہے کہ اس فلائنگ کیریئر کے ذریعے امریکا کو ایسے علاقوں میں ڈروں طیارے استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے جہاں اسے قریبی ہوائی اڈوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے تاہم تکنیکی چیلنجز رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

بشکریہ واشنگٹن پوسٹ

loading...
loading...